فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیموں نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکام نے ’’مجدو جیل‘‘ میں قید دو اٹھارہ سال سے کم عمر فلسطینی لڑکوں کو گزشتہ کئی روز سے قید تنہائی میں ڈال کر ڈال رکھا ہے۔ فلسطینی اسیران کے حقوق کے لیے سرگرم ادارے ’’مرکز احرار‘‘ نے بتایا کہ سولہ سال کے ولید نصر شقیر اور سترہ سال کے عدنان صالح عبودی کا تعلق مغربی کنارے کے شہر سلفیت سے ہے۔
ان دونوں کو گزشتہ کئی ہفتوں سے ان بیرکوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کے ساتھ اور کوئی نہیں ہے۔ مرکز کے مطابق ان دونوں کو یہ وحشت ناک سزا بغیر کسی وجہ کے دی گئی ہے۔ ان دونوں کے اہل خانہ کو ان سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جارہی جس کے بعد انکے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
انسانی حقوق کے مرکز کا کہنا ہے کہ اس وقت صہیونی عقوبت خانوں میں 200 فلسطینی بچے موجود ہیں۔ اسرائیلی جیل انتظامیہ ان کو سخت حالات میں رکھے ہوئے ہے۔ اٹھارہ سال سے کم عمر ہونے کے باوجود ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جا رہا ہے جو بڑے قیدیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ان کے ٹرائل میں بلاوجہ تاخیر کی جاتی ہے۔ انہیں طرح طرح وہی سزائیں دی جاتی ہیں جو بڑے قیدیوں کو ہی دی جا سکتی ہیں۔
دوران تفتیش ان بچوں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ اسرائیلی تفتیش کار فلسطینی بچوں کو گرفتار کرنے کے بعد انہیں اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے لیے استعمال کرنے کی بھی بھرپور کوششیں کرتے ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
