اسرائیلی جیل میں قید شوہر کی اہلیہ کے ہاں ٹیسٹ ٹیوب بچے کی کامیاب پیدائش کے بعد ماہر فلسطینی ڈاکٹروں نے متعدد خواتین کے اسرائیلی جیلوں میں قید شوہروں کے مادہ منویہ کو ان کے ارحام میں کامیابی سے منتقل کرنے کا دعوی کیا ہے۔
نابلس میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رزان ٹیسٹ ٹیوب بی بی سینٹر کے نگران ڈاکٹر سالم ابو خیزران نے بتایا کہ اسرائیلی جیلوں سے منتقل کئے گئے فلسطینی اسیران کے نطفے ان کی بیگمات کے ارحام میں منتقل کر دیئے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں چار خواتین اس وقت امید سے ہیں، جبکہ متعدد دیگر خواتین ایسے ہی تجربات کی کامیابی کے منتظر ہیں۔
ڈاکٹر خیزران نے بتایا کہ جیل سے کسی اسیر کے مادہ منویہ کی منتقلی کا عمل انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ مردانہ نطفہ اگر چوبیس گھنٹوں کے اندر ہمارے پاس پہنچ جائے تو اسے ٹیسٹ ٹیوب حمل کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایسے تجربات میں کامیابی کی شرح ستر فیصد ہے۔ تاہم ڈاکٹر سالم نے مشورہ دیا کہ ٹیسٹ ٹیوب حمل کے تجربے سے صرف ہوی خواتین گزریں کہ جن کے شوہر طویل مدتی قید کاٹ رہے ہیں۔
جیل سے شوہر کے مادہ منویہ کی بیوی کے رحم میں منتقلی کے حق میں ڈاکٹر علامہ یوسف القرضاوی، الشیخ حامد البیتاوی، ڈاکٹر عکرمہ صبری جیسے جید علماء کے فتاوی موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کسی اسیر کا مادہ منویہ اس کی اہلیہ کے رحم منتقلی کے وقت ہماری شرط ہوتی ہے کہ ہر دو فریقوں کے ایک ایک نمائندہ ٹیسٹ ٹیوب حمل کے وقت موجود ہو۔
یاد ریے کہ عمار الزبن پہلے فلسطینی اسیر تھے کہ جن کی اہلیہ کے ہاں ٹیسٹ ٹیوب بیٹا گزشتہ رمضان میں پیدا ہوا۔ نومولاد کی والدہ اور ان کے معالج سالم نے بتایا کہ ٹیسٹ ٹیوب بچے کا والد 37 سالہ عمار الزبن اسرائیلی جیل میں عمر قید گزار رہا ہے۔ اسرائیلی جیل سے ان کا نطفہ ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں غرب اردن کے شہر جنین میں مقیم زچہ کے رحم میں منتقل کیا گیا جو شوہر کی عمر قید کی وجہ سے اپنی والدہ کے ہاں مقیم تھیں۔
دنیا کے منفرد فلسطینی ٹیسٹ ٹیوب بچے کا نام مھند رکھا گیا تھا۔ زچگی کے دوران عرب دنیا اور بالخصوص فلسطین کے ماہر فرٹیلٹی ڈاکٹر سالم ابو خیزران نے ام مھند کا باقاعدہ طبی معائنہ اور نگرانی کی۔ مھند کی پیدائش نابلس کے عرب میڈیکل سینٹر میں ہوئی جہاں زچہ اور بچہ بخریت اپنے گھر لوٹے
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
