اسرائیل کی ہاؤسنگ وزارت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے لئے 198 رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لئے ٹینڈر طلب کئے ہیں۔ اس امر کا انکشاف فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ‘اے ایف پی’ نے آبادکاری مخالف غیر حکومتی انجمن ‘القدس الدنیویہ’ کے حوالے سے کیا ہے۔
‘القدس الدنیویہ’ کے ڈائریکٹر ڈانی سیڈمان نے بتایا کہ اسرائیلی پراپرٹی مینجمنٹ نے یہ ٹینڈرز 84 رہائشی یونٹس الخلیل جبکہ 114 یونٹس فلسطینی شہر بیت لحم کی قریبی یہودی بستی ‘افراط’ میں تعمیر کی غرض سے طلب کئے ہیں۔
یہودی آبادکاری مخالف ایک اور غیر حکومتی انجمن ‘پیس ناؤ’ نے بدھ کے روز جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا کہ سن 2012ء کے دوران مقبوضہ عرب علاقوں میں یہودی آبادکاری کے منصوبوں میں خاطر خواہ تیزی دیکھنے میں آئی۔ رپورٹ کے مطابق نجمن نیتن یاہو کی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں یہودیوں کے لئے 6676 رہائشی یونٹس تعمیر کی منطوری دی۔
نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کے ٹینڈر کا اجرا پارلیمانی انتخابات سے ایک ہفتہ قبل کیا گیا ہے۔ ان انتخابات میں موجودہ وزیر اعظم کی کامیابی کے قوی امکانات ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
