اسرائیلی پارلیمنٹ(کنیسٹ) کے اسپیکر روفین رویلین نے فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعمیرکے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ
مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی کالونیوں کے زیرتعمیر منصوبوں کو روکنے کے بارے میں کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوسکتی۔نیزمغربی کنارے کے سیکٹر’’ای ون‘‘ میں موجود یہودی کالونیوں سے دستبرداری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مستقبل میں فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ کسی بھی امن سمجھوتے کی صورت میں اس سیکٹرکی کوئی کالونی خالی نہیں کرائی جائے گی۔ صہیونی اسپیکرپارلیمنٹ مسٹررویلین کا یہ بیان عبرانی ریڈیو نے نقل کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیت المقدس اور اس کے آس پاس کے تزویراتی اہمیت کے حامل علاقوں کے بارے میں کسی دوسری قوت کو فیصلہ ماننے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان علاقوں پر اسرائیل کا کنٹرول اس لیے بھی ضروری ہوچکا ہے کیونکہ یہ ملک کی سلامتی کے لیے دیوار فاصل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حال ہی میں غزہ سے داغے گئے راکٹوں کے بیت المقدس اور تل ابیب تک پہنچنے کے بعد ان علاقوں کی اسرائیل کے لیے تزویراتی اہمیت مزید دو چند ہوگئی ہے۔ صہیونی کنیسٹ کے اسپیکرکا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیاہے جب حکومت نے مقبوضہ فلسطینی شہروں بیت المقدس اور مغربی کنارے میں یہودی کالونیوں کی تعمیرکا عمل بھی تیز کردیا ہے۔ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے دفتر کے ذرائع نے خبر دی ہے کہ حکومت شمالی بیت المقدس میں ’’رمات شلومو‘‘ یہودی کالونی میں توسیع کے لیے مزید ڈیڑھ ہزار مکانات کی تعمیر کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔
