مقبوضہ مغربی کنارے کے تاریخی شہر الخلیل میں حرم ابراہیمی کے قریب فلسطینی نوجوانوں اور صہیونی فوجیوں کے درمیان بدھ کے روز ہونے والی جھڑپوں میں 17 سالہ فلسطینی نوجوان شہید ہو گیا۔
مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق لازمی فوجی خدمت سرانجام دینے والے صہیونی خاتون اہلکار نے الخلیل شہر کے رہائشی نوجوان محمد السلایمہ پر فائر کر کے اسے شدید زخمی کر دیا۔ خاتون اہلکار نے اپنے ہلاکت خیز ایکشن کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید نوجوان نے پستول سے اس پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ خاتون فوجی نے شہید پر چھے فائر کئے جو اس کے جسم کے مختلف حصوں پر لگے۔ محمد السلایمہ نے خون میں لت پت جام شہادت نوش کر لیا۔ اس واقعے کی اطلاع شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، جس کے بعد متعدد مقامات پر فلسطینی نوجوانوں اور صہیونی فوجیوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ جھڑپوں کی کوریج کو آنے والے صحافیوں پر بھی فوجیوں نے تشدد کیا۔ صہیونی فوجیوں کی نگرانی میں صہیونی آبادکار فلسطینیوں کے گھروں پر پتھراؤ کرتے رہے۔
