فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں حکمراں الفتح کے وزیراعظم سلام فیاض کے خلاف عوامی احتجاج میں شدت آنے کے بعد فلسطینی پارلیمنٹ نے بھی ان سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
پارلیمنٹ کی اقتصادی کمیٹی کا کہنا ہے کہ سلام فیاض اور ان کی کابینہ شہریوں کو معاشی ریلیف فراہم کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ لہٰذا وہ اقتدار چھوڑ دیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی پارلیمنٹ کی اقتصادی کمیٹی کی جانب سے جاری ایک بیان میں رام اللہ اتھارٹی سے اسرائیل سے کیے گیے نام نہاد امن معاہدوں اوسلو اور پیرس معاہدوں کی منسوخی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان اب تک جتنے بھی سمجھوتے طے پائے ہیں، ان کا فلسطینیوں کو نہ کوئی سیاسی فائدہ پہنچا ہے اور نہ ہی اقتصادی فائدہ بلکہ ان معاہدوں کا صرف صہیونی ریاست کو فائدہ پہنچا ہے۔
اقتصادی کمیٹی نے عرب ممالک اور اسلامی تعاون تنظیم سے بھی فلسطینیوں کی مدد کرنے اور اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں کا متبادل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی سے غزہ کی پٹی پر مسلط معاشی پابندیاں بھی فوری ختم کرانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی اپیل کی۔ بیان میں کہا گیا کہ مغربی کنارے میں سلام فیاض کی حکمراں جماعت الفتح شہریوں کو معاشی سہولیات فراہم کرنے اور ان کے معاشی مسائل کے حل مین بری طرح ناکام رہی ہے۔ اس کے بعد فتح کے پاس حکومت کرنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
