مغربی کنارے کے سب سے بڑے شہر الخلیل کے محکمہ اوقاف کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے رواں ماہ کے وسط میں جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراھیم خلیل اللہ
سے منسوب مسجد ابراھیمی کو پانچ روز کے لیے بند کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ڈائریکٹر اوقاف زید جعبری نے خبر رساں ایجنسیوں کو جاری اپنے بیان میں بتایا کہ موصول صہیونی حکم نامے کے مطابق ماہ ستمبر کی سترہ،اٹھارہ، تیئیس اور چھبیس تاریخ اسی طرح پچیس تاریخ کو بعد نماز عصر جزوی طور پر مسجد ابراھیمی کو مسلمانوں کے لیے بند کر دیا جائے گا۔ ان پانچ دنوں کے دوران یہودی مذہبی تہواروں عبرانی نئے سال کی عید، ایام توبہ کی عید اور عید غفران کی رسومات کی ادائیگی کے لیے یہودی آباد کار مسجد کا رخ کرینگے۔
اوقاف نے بتایا کہ اس سال کے شروع سے اب تک اسرائیل دس دن مسجد ابراھیمی کو بند کر چکا ہے۔ یاد رہے کہ فروری سن 1994ء میں حرم ابراھیمی میں فلسطینیوں کے قتل عام کے بعد بننے والی شمغار کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ آئندہ یہودی عیدوں کے موقع پر مسجد کو مسلمانوں کے لیے بند کر دیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے مسجد کو بند کرنے کی کارروائیاں معمول بن چکی ہیں۔ صہیونی حکام مسجد میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندیوں کے علاوہ مختلف یہودی تہواروں کے موقع پر مسجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر بھی پابندی عائد کرتے رہتے ہیں۔
قدیم تاریخی شہر الخلیل کے اسلامی اوقاف دو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ اسرائیل حرم ابراھیمی پر بزور اسلحہ قبضہ کرکے اسے یہودی عبادت گاہ بنانا چاہتا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
