اسرائیل کی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ شرمناک اور توہین آمیز سلوک کا سلسلہ جاری ہے۔ حال ہی میں قابض جیل اہلکاروں نے رامون جیل میں پابند سلاسل فلسطینی قیدیوں کی عریاں تلاشی اور تفتیش کی ہے
جس کے بعد قیدیوں میں شدید غم غصہ پایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب حماس نے قیدیوں سے شرمناک تفتیش کے اس طریقہ کار کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کےمطابق جمعرات اسرائیلی جیل رامون میں زیرحراست فلسطینیوں کی ان کے کپڑے اتار کر تلاشی لی گئی۔ اس دوران نہایت ظالمانہ طریقے سے قیدیوں کا سامان بھی چیک کیا گیا،جسے بعد ازاں ان کے کمروں میں تتر بتر کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہودی فوجی تفتیش کاروں نے جیل کے وارڈ نمبر تین پر چھاپہ مارا۔ یہ وارڈ مریض اسیران کے لیے مخصوص ہے۔ مریض اسیران کو گھسیٹ کر باہر لایا گیا اور ان کے کپڑے اتار کر ان کی تلاشی لی گئی۔
دوسری جانب حماس کے سیاسی شعبے کے رکن عزت رشق نے صہیونی فوجیوں کے اس شرمناک اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسےاسیران کے عالمی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ اپنے ایک بیان میں حماس رہ نما نے کہا کہ یہودی فوجیوں کی جانب سے فلسطینی اسیران کے ساتھ غیر انسانی سلوک اور ان کی عریاں تفتیش پہلا واقعہ نہیں ہے۔انسانی حقوق کے علمبردار عالمی تنظیموں کو صہیونیوں کے اس سفاکانہ طرز عمل کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
