مصر کے معروف عسکری تجزیہ کار بریگیڈئیر صفوت الزیات کا کہنا ہے کہ مصری سرحد پر حملے میں سولہ مصری فوجیوں کے قتل میں اسرائیل کا ملوث ہونا بعید از قیاس نہیں۔ ان کے مطابق اس حملے کا مقصد مصر اور غزہ کے درمیان معمول پر آتے تعلقات میں دراڑیں ڈالنا ہو سکتا ہے۔ بریگیڈئیر زیات نے کہا کہ جب سے فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ اور حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل نے مصر کا دورہ کیا ہے غزہ اور مصر میں تعلقات مزید مضبوط ہوگئے تھے جس پر اسرائیل کو شدید رنج تھا۔
’’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے صفوت الزیات کا کہنا تھا غزہ سے ملحق مصر بارڈر پر حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ یہ حملہ غزہ کی پٹی پر نئے صہیونی حملے کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصری فوجیوں پر حملہ واضح طور پر مصر اور غزہ کے درمیان تعاون و یکجہتی کو روکنے کی ایک مکروہ کوشش تھی۔
الزیات نے اس کارروائی میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے امکان کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ تمام حالات اس کارروائی میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے اشارے دے رہے ہیں، انہوں نے استفسار کیا کہ اس حملے سے چند گھنٹے قبل کرم ابو سالم کراسنگ سے اسرائیلی فوجیوں کے انخلاء کا کیا مقصد تھا؟ دوسری جانب مصری جماعت اسلامی کے ترجمان ڈاکٹر طارق الزمر نے بھی اس سانحے کو انتہائی خطرناک قرار دیا اور کہا کہ ہمیں پہلے ہی اس قسم کے واقعات کی توقع کر رہے تھے۔ الزمر نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اس واقعے کے پیچھے اسرائیلی خفیہ ایجنسیاں ہیں، انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ صہیونی خفیہ ایجنسیوں نے اس کارروائی کے لیے بدو آبادی کے بعض عناصر کو خریدا ہوگا۔
