مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق جرمن سائنس دان نے حال ہی میں ایک ایک جرمن اخبار میں شائع اپنے مضمون میں اسرائیل کے پاس جوہری اسلحے کے بارے میں تفصیلات بتائی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ اسرائیل نے ایٹم بموں کی تیاری میں سب سے زیادہ پلوٹونیم دھات کا استعمال کیا ہے۔ اس وقت اسرائیل کے پاس پلوٹونیم دھات سے تیار کردہ وار ہیڈز کی تعداد 239 ہے۔
جرمن سائنسدان نے اسرائیل کے جوہری اسلحے کے حصول کی کوششوں کے اسباب کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ چیگل مزید لکھتے ہیں کہ اسرائیل موجودہ حالات میں مصر سے بھی خائف ہےاور اس نے جنگی سازو سامان اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری پڑوسی ممالک کے خطرات کے انسداد کے لیے رکھی ہے۔
پلوٹونیم دھات سے تیار کردہ وار ہیڈز کے علاوہ گذشتہ کچھ عرصے سے صہیونی ریاست نے 235 کلو گرام یورنیم بھی افزودہ کیا ہے۔ یورنیم کی اس مقدار کی افزودگی اس وقت شروع کی گئی تھی جب گذشتہ برس عالمی طاقتوں نے ایران کے جوہری پروگرام پر پابندی لگانے کے لیے مذاکرات اور اقتصادی پابندیوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ وہ مزید لکھتے ہیں اسرائیل کے پاس موجود طاقتور ایٹم بموں میں امریکا کے ہیروشیما پرگرائے گئے ایٹم بم کے طرز پر تیار کردہ وار ہیڈز ہیں، جن میں 20 کلو ٹن دھماکہ خیز مواد ڈالا گیا ہے۔
