فلسطینی مقبوضہ مغربی کنارے میں صدر محمود عباس کے زیر کمانڈ سیکیورٹی فورسز نے مجلس قانون ساز کے اسپیکر ڈاکٹر عزیز دویک کے ناظم دفتر کو حراست میں لے لیا ہے۔
تاہم حراست کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت ‘‘حماس’’ کے پارلیمانی بلاک‘‘ اصلاح وتبدیلی’’ نے ڈاکٹر دویک کے ناظم دفترکی گرفتاری کو اسرائیل کی خوشنودی کے لیے سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کی عباس ملیشیا کی مہم کا حصہ قرار دیا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عباس ملیشیا نے رام اللہ میں مجلس قانون ساز کے اسپیکر ڈاکٹر عزیزدویک کے ناظم دفتر کو دو روز قبل ان کے دفتر سے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا، جس کے بعد اراکین قانون ساز کونسل اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس کی شدید مذمت کی گئی تھی۔
جمعرات کے روز حماس کے پارلیمانی بلاک اصلاح و تبدیلی کی جانب سے جاری ایک بیان میں فلسطینی رہ نما کی گرفتاری کو شرمناک قرا ردیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک جانب فلسطین میں قومی مفاہمت کی مساعی کی جا رہی ہیں اور دوسری جانب صدر عباس کے زیرکمانڈ سیکیورٹی فورسز سیاسی کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کی شرمناک مہم بھی جاری رکھے ہوئے ہے جو مفاہمت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ مغربی کنارے میں عباس ملیشیا کے اہلکاروں کی جانب سے حماس اور دیگر جماعتوں کےخلاف جاری کریک ڈاؤن کی پالیسی نے فلسطین کو عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے۔ اصلاح و تبدیلی بلاک نے فلسطینی صدر محمود عباس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈاکٹر عزیز دویک کے ناظم دفتر سمیت تمام دیگر سیاسی کارکنوں کی فوری رہائی کے احکامات جاری کریں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
