اسیران امور و انسانی حقوق کے مرکز ’’احرار‘‘ کے سرگرم کارکن فواد خفش کا کہنا ہے کہ صہیونی عقوبت خانوں میں قید فلسطین کے معروف رہنما عبد اللہ برغوثی کو انسانیت سوز کے مظالم سے گزارا جارہا ہے۔ حال ہی میں جیل انتظامیہ نے ان پر شکاری کتے چھوڑ دیے جس سے وہ زخمی ہوگئے ہیں۔
خفش نے پیر کے روز اپنے بیان میں کہا کہ کچھ روز قبل جب فلسطینیوں محبوب قائد عبد اللہ برغوثی عدالت میں پیشی سے واپس آ رہے تھے۔ کہ اسرائیلی فوجیوں کے حکم پر شکاری کتے نے برغوثی پر حملہ کردیا اور ان کے پاؤں پر کاٹ لیا، اس پیشی کے دوران عدالت میں امریکی افسران میں بھی موجود تھے۔
فواد خفش نے بتایا کہ یہ حملہ عبد اللہ برغوثی کو قتل کرنے کی ایک کوشش تھی۔ جس کی وجہ ان کا عدالت میں امریکی تفتیش کاروں کے سوالوں کے جواب دینے سے انکار تھا جس کے بعد طیش میں آکر اسرائیلی فوج نے حال ہی میں قید تنہائی سے نجات پانے والے برغوثی پر کتا چھوڑ دیا۔ مرکز احرار نے عبد اللہ برغوثی کی اہلیہ کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی حکام نے کتے کے کاٹنے کے بعد جان بوجھ کر برغوثی کے علاج میں تاخیر کی اور انہیں جیل کے اندر موجود شفاخانے نہیں لے جایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کتے کے منہ سے لگام کا اتارنا اور اس کو حملے کے لیے کھلا چھوڑنا قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
اس موقع پر مرکز احرار کے ترجمان فواد خفش نے انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ معروف فلسطینی اسیر رہنما عبد اللہ برغوثی کی زندگی کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری مداخلت کریں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
