عباس ملیشیا نے ہفتے کی شب مغربی رام اللہ کے علاقے عین ایرک پر دھا وا بولا اور جامعہ بیرزیت کے اسلامک بلاک کے درجنوں طلباء کو ہراساں اور ان کا گھیراؤ کیا۔ واضح رہے کہ یہ طلباء عین ایرک میں ایک تفریحی مقام پر موجود تھے۔
جامعہ بیرزیت میں اسلامی بلاک کے قائد عمران مدھلوم نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ عباس ملیشیا نے عین ایریک کے ایک تیراکی کے تالاب پر دھاوا بولا اور وہاں سے دو طالب علم طارق محمود اور محمد عاروی کو گرفتار کر لیا جبکہ 40 دوسرے طلباء کو بندوق پر زور پر گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی۔
دھاوے کے دوران عباس ملیشیا نے کافی خوف و ہراس پھیلایا جب اہل علاقہ گرفتار طالب علموں کی مدد کیلیے پہنچے تو ملیشیا نے نفری کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے تیراکی کے تالاب کا گھیراؤ کر لیا خیال رہے کہ اوسلو معاہدے کی رو سے عین ایرک کا شمار”سی کٹیگری ”کے علاقوں میں ہوتا ہے ، جبکہ عباس ملیشیا ان علاقوں میں قابض اسرائیلی فوج سے رجوع کیے بغیر داخل نہیں ہو سکتی جامعہ بیرزیت کے اسلامی بلاک کے طلباء سیاسی گرفتاریوں کے خلاف پچھلے کچھ عرصے سے دھرنا دیے ہوئے تھے جو کہ فلسطینی اتھارٹی کے وزیراعظم سلام فیاض کی اس یقین دہانی کے بعد ختم ہوا کہ اب آئندہ سیاسی گرفتاریوں کا باب بند ہو جائے گا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
