مغربی کنارے کی فلسطینی اتھارٹی نے یہودی بستیوں کی تعمیر نہ روکنے کے باوجود صہیونی سکیورٹی فورسز کے ساتھ سکیورٹی تعاون جاری رکھتے ہوئے
شہر طولکرم سے فلسطینی مزاحمتی و سیاسی تنظیم حماس کے حامیوں کی بڑی تعداد کو گرفتار اور دسیوں کو تفتیش کے لیے طلب کرلیا ہے۔
طولکرم میں اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز نے شہر کے جید عالم امام اور معروف رہنما اڑتیس سالہ امام مسجد شیخ عمار مناخ کو ان کے گھر سے گرفتار کرلیا۔ مقامی افراد نے بتایا کہ سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد نے گھر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی، دو گھنٹے تک گھر میں موجود سامان کی تلاشی لی جاتی رہی۔ اہلکاروں نے شیخ مناخ کے کمپیوٹر اور دیگر دستاویز بھی قبضے میں لے لیں۔ یاد رہے کہ شیخ مناخ اسرائیلی قید میں بھی رہ چکے ہیں اور فلسطینی اتھارٹی کی فورسز بھی انہیں متعدد مرتبہ سیاسی بنیادوں پر حراست میں رکھ چکی ہیں۔
شہر کی ایک لمای کالونی میں پینتالیس سالہ شہری محمد صافی اور ان کے باسل ابو حجر، انتیس سالہ، کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ اس کارروائی میں بھی اہلکاروں نے گھر میں موجود کمپیوٹر قبضے میں لے لیا۔ ابو حجر کو اس سے قبل بھی عباس ملیشیا انہیں گرفتار کر چکی ہے۔ ادھر شہر بھر میں عباس حکومت کی سکیورٹی فورسز نے متعدد افراد کو تفتیش کے لیے طلبی کے نوٹسز جاری کیے۔ جن افراد کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا ان میں معروف نوجوان فلسطینی لیڈر 33 سالہ ریاض بدیر، 38 سالہ شیخ رائد قوزح، 38 سالہ منیر ذیاب، 31 سالہ سعید ابو خیط، 38 سالہ معتصم شلبایہ بھی شامل ہیں۔
شہری ذرائع نے بتایا کہ گرفتاریوں اور طلبیوں کی ان کارروائیوں کے دوران شہریوں کے ساتھ جانوروں کا سا سلوک کیا گیا، متعدد افراد کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
