قابض اسرائیلی حکومت اور فوج کی جانب سے فلسطینیوں کے لیے ان کےاپنے وطن میں زندگی جہنم بنا دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق قابض فوج نے جمعہ کے روز مقبوضہ مغربی کنارے
کے تاریخی شہر الخلیل ایک فلسطینی خاندان کو یہ کہہ کر وہاں سے نکال دیا کہ وہ فوجی کیمپ کی حدود میں رہ رہے ہیں۔جہاں فلسطینیوں کے لیے رہائش اختیار کرنے کی کوئی اجازت نہیں ہے۔
متاثرہ خاندان کے ایک فرد الحاج جبریل العدرہ نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ انہیں قابض فوج نے مغربی الخلیل میں صدیوں سے آبائی علاقہ”غزیو” خالی کرنے کا کہا تھا، جس پروہ ابھی تک قابض رہے ہیں، لیکن جمعرات اور جمعہ کو قابض صہیونی فوجیوں نے ان کے مال مویشی ہانک کر”غزیو” سے باہر نکال دیے اور ہمیں کہاں گیا کہ ہم سامان لے کرہاں سے نکل جائیں ورنہ سب کچھ آگ میں جلا کر خاکستر کردیا جائےگا۔ الحاج العدرہ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کی دھمکیوں کے بعد وہ اپنے مکانات چھوڑ کر وہاں سے نکل پڑے ہیں، فی الحال ان کے پاس متبادل کوئی دوسری رہائش نہیں ہے اور ان کے بچے اور عورتیں کھلے آسمان تلے زندگی گذار رہی ہیں۔ متاثرہ فلسطینی شہری کا کہنا تھا کہ انہوں نے صہیونی فوجیوں سے اجازت لی ہے کہ وہ ہمیں اپنی کھیتوں کی موجودہ فصل کو کاٹنے اور اسے وہاں سے اٹھانے میں مدد فراہم کریں گے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

