فلسطین کی دو بڑی سیاسی جماعتوں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” اورصدرمحمود عباس کی الفتح نے قاہرہ میں مصری نگرانی میں ایک سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت دو ماہ قبل دوحہ میں طے پائے
قومی معاہدے کو عملی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔ اعلان دوحہ میں دونوں جماعتون نے اپنی اپنی حکومتیں ختم کرکے ایک قومی حکومت کے قیام پر اورصدر محمود عباس کو وزارت عظمیٰ کا اضافی چارج سونپنے پراتفاق کیا تھا۔ حماس کے ترجمان فوزی برھوم نے "مرکزاطلاعات فلسطین” سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان اعلان دوحہ کو عمل شکل دینے کے سلسلے میں بات چیت مصری حکام کی نگرانی میں اتوار کے روز قاہرہ میں ہوئی۔ معاہدے کے تحت یہ طے پایا کہ ستائیس مئی کو الیکشن کمیشن کے قیام کے لیے اقدامات شروع کیے جائیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ قومی حکومت کی تشکیل کے بارے میں بھی بات چیت شروع کی جائے گی۔
ایک سوال کے جواب میں حماس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ قومی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں دونوں بڑی جماعتوں کے مابین مذاکرات میں 10 روز بھی لگ سکتے ہیں، کیونکہ گذشتہ چھ ماہ سے اس پر وقفے وقفے سے مذاکرات ہوتے رہے ہیں، اب صرف قطر میں ہونے والے اس معاہدے کو عمل شکل دینا ہے جس میں حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل اور صدر محمود عباس کے درمیان ایک سمجھوتہ طے پایا تھا۔ فوزی برھوم کا کہنا تھا کہ دنوں بڑی جماعتوں کی قیادت نے قومی حکومت کی تشکیل کے ساتھ عام پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کے لیے نقشہ راہ کے تعین بھی مشاورت شروع کی جائے گی۔
حماس کے ترجمان نے قومی حکومت کے اختیارات اورمنشور کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ "قومی حکومت ایک محدود ایجنڈے اور منشور کے تحت کام کرے گی۔ قومی حکومت کی اہم ترجیح انتخابات کی تیاری اور غزہ کی پٹی کی تعمیر ہوگی۔ اس دوران مفاہمت کا عمل آگے بڑھانے کے لیے قائم کی گئی کمیٹیوں کی نگرانی براہ راست مصری حکام کریں گے فلسطینیوں کے باہمی مذاکرات کے نتائج سے ثالث کا کردار ادا کرنے والے مصرکو آگاہ کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ فلسطینی جماعتوں حماس اور فتح کے درمیان مفاہمت کے لیے گذشتہ ایک سال سے کوششیں جاری ہیں لیکن فتح کی مرکزی قیادت میں موجود بعض مغرب نواز رہ نماؤں کی وجہ سے مفاہمت کا عمل آگے نہیں بڑھ سکا ہے۔ کئی ہفتوں کے تعطل کے بعد ایک مرتبہ مفاہمت کی شمع پھرسے روشن ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

