غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) سات اکتوبر سنہ 2023ء کا منظر نامہ محض غزہ کی پٹی کی سرحدوں پر ایک اچانک عسکری کارروائی نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسا فیصلہ کن موڑ تھا جس نے اس کشمکش کے کئی ایسے فارمولوں کو از سر نو تشکیل دیا جنہوں نے کئی دہائیوں تک فلسطینی اسرائیلی تنازعے پر حکمرانی کی، ایسی دیواروں کے پیچھے سے جو ناقابل تسخیر دکھائی دیتی تھیں، مزاحمت باہر نکلی اور اس نے اسرائیل کے سکیورٹی اور ڈیٹرنس سسٹم کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا، جبکہ دوسری طرف فلسطین، اس کے کاز کو حاشیے پر دھکیلنے کی برسوں کی کوششوں کے بعد، ایک بار پھر عالمی سیاسی اور عوامی منظر نامے کی چوٹی پر لوٹ آیا۔
تین سال گزر جانے کے بعد اب سات اکتوبر کو نہ تو اس جنگ سے الگ کر کے دیکھا جاتا ہے جو اس کے بعد لڑی گئی، اور نہ ہی اس کے ان اثرات سے الگ کر کے دیکھا جا سکتا ہے جو اس نے فلسطینی، عرب اور بین الاقوامی شعور میں مرتب کیے۔ اس کے اثرات میدان جنگ سے لے کر سیاست اور مذاکرات تک، اور غزہ سے لے کر غرب اردن اور مقبوضہ بیت المقدس تک پھیل گئے، یہاں تک کہ عالمی گلیارے بھی اس کی زد میں آئے جہاں فلسطین کے ساتھ یکجہتی کی لہریں بے مثال پیمانے پر وسعت اختیار کر گئیں۔
ایک ایسا دن جب ’محفوظ سرحدوں‘ کا بھرم ٹوٹ گیا
صبح کے ابتدائی گھنٹوں میں القسام بریگیڈز نے ’طوفان الاقصیٰ‘ آپریشن کے آغاز کا اعلان کیا، جو قابض اسرائیلی عسکری چوکیوں اور غزہ کی پٹی سے متصل بستیوں پر ایک وسیع اور مربوط حملے کے ساتھ بیک وقت شروع ہوا۔
فلسطینی ذرائع کی طرف سے اس آپریشن کے جائزے کے دوران پیش کردہ اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ اس حملے اور پشت پناہی میں تقریباً تین ہزار جنگجوؤں نے حصہ لیا، جبکہ قابض ریاست کے نظام کو الجھانے اور کمک کی آمد کو مؤخر کرنے کے لیے شدید راکٹ فائرنگ بھی کی گئی، اس دوران متعدد مقامات پر سرحدی باڑ کو عبور کیا گیا اور اہم عسکری چوکیوں پر دھاوا بولا گیا۔
اس آپریشن کی اہمیت صرف حملے کے حجم میں پوشیدہ نہیں تھی، بلکہ اس صلاحیت میں تھی کہ وہ ایسے علاقوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا جنہیں اسرائیلی سکیورٹی ادارہ یہ باور کراتا تھا کہ وہ دیواروں، سینسرز، مانیٹرنگ آلات اور انٹیلی جنس کے جدید ترین نظام کے حصار میں محفوظ ہیں۔
اسرائیلی روایات اور تحقیقات یہ انکشاف کرتی ہیں کہ خطرے کے تخمینے میں سنگین قسم کی کوتاہیاں پائی جاتی تھیں، جن میں غزہ کی سرحدوں پر تعینات فوج میں کمی، ٹیکنالوجی پر ضرورت سے زیادہ انحصار اور دستیاب معلومات کو مزاحمت کی نیت اور اس کی صلاحیتوں کے درست تخمینے میں بدلنے کی عدم صلاحیت شامل تھی۔
اس طرح یہ محض مادی باڑ کو عبور کرنے کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس پورے بیانیے پر ایک کاری ضرب تھی جو اس عقیدے پر قائم کیا گیا تھا کہ ٹیکنالوجی، ڈیٹرنس اور دفاعی حصار غزہ کی پٹی کے ساتھ کسی بھی وسیع محاذ آرائی کو روکنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
انٹیلی جنس کا ایک ایسا سرپرائز جس نے قابض ریاست کو ہلا کر رکھ دیا
ماہرین کا ماننا ہے کہ سات اکتوبر کے اہم ترین عجب روزگار میں سے ایک یہ تھا کہ قابض ریاست معلومات سے بالکل محروم نہیں تھی، بلکہ وہ ان کی تشریح کرنے اور انہیں باہم مربوط بنانے میں ناکام رہی،اس کے پاس مزاحمت کی مشقوں اور تیاریوں کے بارے میں معطیات موجود تھے، لیکن وہ اس مفروضے کی قیدی بنی رہی کہ مزاحمت ’دبائو تلے ہے‘ اور وہ غزہ میں موجودہ صورتحال کو برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔
اسرائیلی امور کے ماہر امین الحاج کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ معلومات کی عدم موجودگی نہیں تھا، بلکہ پوری تصویر کا ادراک نہ کرنا تھا۔ انہوں نے آخری لمحے تک آپریشن کی رازداری، اس کے وقت اور اس کی نوعیت کو برقرار رکھنے میں مزاحمت کی کامیابی کی طرف اشارہ کیا۔
اسی تضاد نے اسرائیلی سکیورٹی کے ان کئی بنیادی مفروضوں کو گرا دیا، جن میں سب سے نمایاں یہ تھا کہ محفوظ سرحدیں دراندازی کو روکتی ہیں، ٹیکنالوجی قبل از وقت وارننگ کا کافی سامان فراہم کرتی ہے اور ڈیٹرنس اتنی طاقتور ہے کہ وہ مزاحمت کو کسی وسیع محاذ آرائی میں کودنے سے روک سکتی ہے۔
یہیں سے یہ آپریشن اسرائیلی سکیورٹی ادارے کے اندر ایک اندرونی اعتماد کے بحران میں تبدیل ہو گیا، جس کے مضمرات حملے کے ابتدائی گھنٹوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ اس ناپائیداری کے ذمہ داروں اور اس کی وجوہات کے تعین کے لیے سیاسی اور عسکری بحث تک پھیل گئے۔
میدان سے لے کر مذاکراتی میز تک
مگر وقت گذرنے کے ساتھ یہ بات واضح ہو گئی کہ سات اکتوبر کے بعد کی جنگ صرف عسکری نوعیت کی نہیں تھی؛ بمباری اور زمینی کارروائیوں کے شانہ بشانہ، فلسطینیوں نے انتہائی پیچیدہ سیاسی اور مذاکراتی جنگ بھی لڑی۔
بین الاقوامی قانون کے ماہر انیس القاسم اشارہ کرتے ہیں کہ جنگ کے برسوں کے دوران مزاحمت کو بین الاقوامی اور علاقائی دباؤ کے ایک وسیع نظام کا سامنا کرنا پڑا، جو صرف قابض ریاست تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس کا ہدف فلسطینی موقف کو ایسے سمجھوتوں کی طرف دھکیلنا تھا جو قومی حقوق سے دائمی دستبرداری میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
القاسم کے مطابق اصل چیلنج اس بات میں تھا کہ جارحیت کو روکنے اور فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے کی جانے والی بات چیت اور ایسے سمجھوتوں کے درمیان فرق کیا جائے جو قبضے کو دوام بخش سکتے ہیں یا غزہ پر کوئی نیا سیاسی اور سکیورٹی تناظر مسلط کر سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان کے نقطہ نظر کے مطابق مذاکرات میدان جنگ کے متوازی ایک محاذ میں تبدیل ہو گئے، بالخصوص جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے اور سکیورٹی انتظامات سے متعلق تجاویز کے بار بار سامنے آنے کے باوجود، جبکہ جنگ کے خاتمے، اسرائیلی انخلا، جبری نقل مکانی کے بائیکاٹ اور فلسطینی حقوق کے تحفظ کے مطالبات تنازع کے دل میں ہی برقرار رہے۔
القاسم کا خیال ہے کہ ذرائع اور طریقہ کار پر بات چیت میں لچک کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اہداف کو چھوڑ دیا گیا ہے، وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ کسی بھی معاہدے کی کامیابی کا معیار محض عارضی مفاہمت تک پہنچنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ فلسطینی حقوق کے تحفظ اور قابض ریاست کے مفاد میں نئی زمینی حقائق کو مسلط ہونے سے روکنے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایک ایسی سرزمین جو اپنے نام نہیں بھولی
سات اکتوبر کا ایک اور رخ بھی ہے جو عسکری جغرافیے سے کہیں آگے کی کہانی کہتا ہے، کیونکہ اس نے غزہ کے ساتھ فاصلاتی باڑ کے پیچھے واقع فلسطینی دیہات کی یادوں کو ایک بار پھر زندہ کر دیا۔
اسی خطے میں جہاں حملے کا آغاز ہوا تھافلسطینیوں کی یادداشت ان دیہات کے ناموں کو تازہ کرتی ہے جن کے مکینوں کو قابض ریاست نے سنہ 1948ء میں بے گھر کر دیا تھا، جن میں دمرہ، سمسم، بریر، دیر سنید، محرقہ، نجد اور ہوج جیسے دیہات شامل ہیں۔یہ وہ نام ہیں جو جدید جغرافیائی منظر نامے سے مٹائے جانے کے باوجود پناہ گزینوں کے سینوں میں زندہ رہے۔
اس طرح اس دن سرحد کو عبور کرنے کی تصویر زمین دیہات اور گھروں کی یادداشت کے ساتھ اس طرح گھل مل گئی کہ وہ فلسطینی شعور سے کبھی غائب نہیں ہوئے تھے اور یوں یہ مقامات نکتہ آغاز، جبری بے دخلی اور حق واپسی سے متعلق ایک وسیع بیانیے کا حصہ بن گئے۔
فلسطینی نسلوں کے لیے، باڑ کے دوسری طرف واقع زمین کوئی نامعلوم علاقہ نہیں تھا؛ وہ دیہات، کھیت، گھر، قبرستان اور وہ نام تھے جنہیں پناہ گزین اپنے ساتھ اٹھائے پھرتے رہے، اور اولادوں نے انہیں آباء و اجداد سے ورثے میں پایا۔
تین سالہ جنگ.. اور غزہ قیمت چکا رہا ہے
تاہم سات اکتوبر اپنے پہلے دن تک محدود نہیں رہا؛ اس کے بعد ایک طویل جنگ نے جنم لیا جس نے غزہ کی پٹی پر گہرے نقوش چھوڑے، اور روزمرہ کی زندگی کو بقا کی ایک کھلی جنگ میں تبدیل کر دیا۔
ہمارے نامہ نگار نقل مکانی، تباہی اور خاندانوں کے بچھڑ جانے کے مسلسل مناظر کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد اب بھی ملبے تلے لاپتہ ہیں۔ روزمرہ کی زندگی کی تمام تفصیلات پانی اور خوراک کے حصول سے ہٹ کر ایک محفوظ پناہ گاہ کی تلاش پر مرکوز ہو کر رہ گئی ہیں۔
اس سانحے کے دل میں زندگی کو برقرار رکھنے کی فلسطینی کوششیں لمحہ بھر کے لیے بھی نہیں رکیں؛ وہ ڈاکٹر جس کا گھر تباہ ہو گیا تھا، ہسپتال واپس لوٹ آیا، وہ رضاکار جس نے زخمیوں کو اٹھایا، اور وہ صحافی جس نے واقعات کو ریکارڈ کرنے کے لیے اپنا کیمرہ اٹھائے رکھا، جبکہ خاندان ملبے کے ڈھیر کے درمیان بھی بقا کے اسباب کی تلاش میں سرگرداں رہے۔
اس طرح گزشتہ تین برسوں کے دوران غزہ کی کہانی صرف ایک عسکری معرکے کی کہانی نہیں رہی، بلکہ یہ ایک ایسے معاشرے کی کہانی بن گئی جو تباہی، بے دخلی اور اپنوں کے کھو جانے کے مقابلے میں اپنے وجود کو بچانے کی جنگ لڑ رہا ہے۔
’طوفان الاقصیٰ‘ مسئلے کو ایک بار پھر منظر عام پر لے آیا
سیاسی سطح پر سات اکتوبر نے نارملازیشن اور علاقائی اتحادوں کے راستوں سے اسے پس پشت ڈالنے کی مسلسل کوششوں کے بعد فلسطینی مسئلے کو ایک بار پھر بین الاقوامی توجہ کے مرکز میں لا کھڑا کیا۔
دُنیا نے ایک بار پھر اپنے آپ کو قابض ریاست، محاصرے، جبری بے دخلی اور حق خود ارادیت جیسے سوالات کے سامنے پایا، جبکہ فلسطین دنیا بھر کے شہروں کی گلیوں، یونیورسٹیوں اور چوکوں میں گونج اٹھا، اور جنگ کے خاتمے، قبضے کے خاتمے اور فلسطینی حقوق کی حمایت کے مطالبات بلند ہونے لگے۔
اسی تناظر میں اردن کے قبائل کے سردار طراد الفایز کا ماننا ہے کہ فلسطینی مزاحمت نے اس مسئلے کو عرب اور اسلامی شعور میں اس کے اصل مقام پر واپس لا کھڑا کیا، اور ان کا خیال ہے کہ سات اکتوبر ایک ایسا فیصلہ کن موڑ تھا جس نے قابض ریاست کے نظام کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کیا اور فلسطین کی مرکزیت کو ایک بار پھر اجاگر کیا۔
الفایز اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس آپریشن کے بعد جو کچھ ہوا اسے اس سیاسی اور عسکری حمایت سے الگ نہیں کیا جا سکتا جو اسرائیل کو حاصل ہوئی، اور ان کا خیال ہے کہ اس کے بعد لڑی جانے والی جنگ نے انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی خطابت اور غزہ میں زمین پر جو کچھ بیتا، ان دونوں کے درمیان پائے جانے والے تضاد کے حجم کو بے نقاب کر دیا۔
تین سال.. اور مساوات اب وہ نہیں رہی جو پہلے تھی
جبکہ غزہ ابھی تک اس جنگ کے بھاری اثرات اٹھائے ہوئے ہے، ان تین برسوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سات اکتوبر تنازع کی تاریخ کا کوئی عارضی واقعہ نہیں تھا۔
عسکری سطح پر اس نے ایک ایسے سکیورٹی سسٹم کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کر دیا جسے طویل عرصے سے خطے کے سب سے ترقی یافتہ سسٹمز میں سے ایک کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ سیاسی سطح پر اس نے غزہ کے مستقبل، فلسطینی حقوق اور کسی بھی آنے والے سمجھوتے کی نوعیت کے بارے میں ایک طویل معرکہ چھیڑ دیا۔ اور عوامی سطح پر، اس نے فلسطین کو عرب اور بین الاقوامی توجہ کے ایک وسیع میدان میں واپس لا کھڑا کیا۔
اردن میں مزاحمت کی حمایت کے لیے قائم قومی فورم کے رکن محمد احمد البشیر کا کہنا ہے کہ سات اکتوبر نے تنازع کے راستے میں ایک “اسٹریٹجک زلزلے” کی حیثیت رکھتا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ اس نے سابقہ سیاسی راستوں کے مقابلے میں مزاحمت کے سوال کو دوبارہ زندہ کیا جو معمول سازی اور امن کو تنازعے کا متبادل بنا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
جہاں تک فلسطینی یادداشت کا تعلق ہے تو دیہات اور نام اب بھی زندہ و جاوید ہیں، دمرہ، سمسم، بریر، دیر سنید اور دیگر دیہات تاریخ کی کتابوں کے محض نام نہیں بن گئے، بلکہ یہ ایک ایسے عوام کی داستان کا حصہ ہیں جو زمین کو اس مسئلے کی اصل اور اس کا جوہر سمجھتے ہیں۔
تین سال گزر جانے کے بعد، سات اکتوبر کا منظر ایک دن کی حدود سے کہیں بڑا دکھائی دیتا ہے؛ قابض ریاست کے لیے یہ ڈیٹرنس، اعتماد اور سکیورٹی کا بحران ہے، فلسطینیوں کے لیے یہ ایک ایسا موڑ ہے جس نے اس مسئلے کو منظر نامے کے مرکز میں لوٹا دیا، اور خطے اور دنیا کے لیے یہ ان سوالوں کو دوبارہ کھولنے کا لمحہ ہے جنہیں پچھلے برسوں نے دفن کرنے کی کوشش کی تھی، زمین کا مالک کون ہے؟ اس کے مستقبل کا فیصلہ کون کرتا ہے؟ اور کیا کسی ایسے عوام کے کاز کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے جو اب بھی اپنے حقوق سے چمٹا ہوا ہے؟
تین سال بیت چکے ہیں مگر اس صبح جنم لینے والے سوالات ختم نہیں ہوئے، اور نہ ہی اس سرزمین کی کہانی ختم ہوئی ہے جو اپنے ناموں کو سنبھالے ہوئے ہے، ہر آنے والی نسل کو کہانی کے اصل ماخذ کی طرف لوٹا رہی ہے۔