غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) شمالی غزہ کی پٹی میں واقع قصبے بیت لاھیا میں قائم کمال عدوان ہسپتال کا عملہ آج پیر کے مکمل طور پر ہسپتال سے نکل گیا۔ یہ انخلا قابض اسرائیلی فوج کی عسکری گاڑیوں کے براہ راست ہسپتال کی جانب پیش قدمی کرنے کے بعد عمل میں آیا، جو کہ شمالی غزہ کے صحت کے نظام پر شکنجہ کسنے والی جاری میدانی کشیدگی کا حصہ ہے۔
طبی خدمات کے حکام نے ہسپتال کے عملے کے مکمل انخلا کی تصدیق کی ہے، جبکہ مرکز اطلاعات فلسطین کے نامہ نگار نے بتایا کہ قابض فوج کے ٹینکوں کی ہسپتال کی جانب پیش قدمی کے بعد طبی عملے نے مجبوری کے تحت وہاں سے انخلا کیا۔
یہ انخلا ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شمالی غزہ کا طبی نظام انتہائی کٹھن حالات سے دوچار ہے، جہاں مسلسل دباؤ، حملوں، ایندھن کی قلت اور طبی سازوسامان کی کمی کا سامنا ہے، جو ہسپتال میں موجود مریضوں اور زخمیوں کی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال رہا ہے۔
کمال عدوان ہسپتال کے قریب قابض فوج کی گاڑیوں کی آمد نے ایک بار پھر ان محاصروں اور دھاووں کے اعادہ کا خوف پیدا کر دیا ہے جو جنگ کے پچھلے مراحل میں اس ہسپتال پر مسلط کیے گئے تھے، جن کے نتیجے میں طبی امداد فراہم کرنے کی اس کی صلاحیت کے وسیع حصوں کو نقصان پہنچا تھا۔
یاد رہے کہ یہ ہسپتال سنہ 2023ء کےدسمبر میں قابض اسرائیل کی جارحیت کا نشانہ بن چکا ہے، جس کے دوران اس کے طبی عملے کے کئی افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا جن میں اس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسام أبو صفيیہ بھی شامل تھے، اس کے علاوہ ہسپتال کے احاطے کو بھی تباہ کر دیا گیا تھا۔
مسلسل محاصرے کی وجہ سے بجلی کے جنریٹر اور آکسیجن پلانٹ بھی تباہ ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ ایندھن اور طبی سامان کے داخلے پر پابندی عائد ہے، جس کی وجہ سے ہسپتال کے کئی شعبوں میں کام معطل ہو گیا اور مختلف مراحل میں وہ خدمت کے قابل نہیں رہا۔
یہ سب کچھ شمالی غزہ میں صحت کے نظام پر جاری دباؤ کے سائے میں ہو رہا ہے، جو اس خطے میں قابض فوج کی فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ جاری ہے، یہی صورتحال مریضوں، زخمیوں اور طبی عملے کو بڑھتے ہوئے خطرات سے دوچار کر رہی ہے۔
کمال عدوان ہسپتال ان نمایاں طبی اداروں میں شمار ہوتا ہے جن کا نام شمالی غزہ میں طبی میدان کی مزاحمت سے جڑا ہوا ہے، کیونکہ اس نے محاصرے، بمباری اور وسائل کی شدید کمی کے باوجود جنگ کے مختلف مراحل میں اپنی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا۔