غزہ میں امدادی کٹوتیوں کی لہر، 4 لاکھ افراد کے امداد سے محروم ہونے کا خطرہ
بیس لاکھ سے زائد فلسطینی خوراک، صحت اور پناہ گاہ کے سنگین بحران کا شکار ہیں، جو فنڈنگ کی کمی کو محرومی، بھوک اور بنیادی خدمات کے تعطل کی ایک نئی لہر میں بدل جانے کا خطرہ پیدا کر رہا ہے۔
غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی میں بین الاقوامی امدادی پروگراموں میں کٹوتیوں اور انسانی بنیادوں پر ریسپانس کے لیے مختص فنڈنگ میں کمی کے ساتھ ہی انسانی حالات مزید ابتر ہوتے جا رہے ہیں، یہ پیش رفت ایسےوقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری طرف بیس لاکھ سے زائد فلسطینی خوراک، صحت اور پناہ گاہ کے سنگین بحران کا شکار ہیں، جو فنڈنگ کی کمی کو محرومی، بھوک اور بنیادی خدمات کے تعطل کی ایک نئی لہر میں بدل جانے کا خطرہ پیدا کر رہا ہے۔
غزہ میں سرکاری میڈیا آفس کے ڈائریکٹر جنرل إسماعيل الثوابتہ نے پٹی کے لیے مختص بین الاقوامی فنڈنگ پروگراموں میں ہونے والی بڑی کمی کے خطرناک اثرات سے خبردار کیا ہے، انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انسانی امداد میں کٹوتی ایک حقیقی تباہی اور انتہائی مشکل انسانی حالات کے سائے میں آبادی کی زندگی پر سنگین اثرات مرتب ہونے کی پیشگوئی کرتی ہے۔
چار لاکھ فلسطینی امداد سے محروم ہونے کے خطرے کی زد میں
ثوابتہ نے ایک اخباری بیان میں کہا کہ فنڈنگ کی کمی کے باعث عالمی ادارہ خوراک (ورلڈ فوڈ پروگرام) کی طرف سے غزہ پٹی میں اپنی انسانی امداد میں کمی کے اعلان سے ہزاروں افراد خوراک کے اپنے بنیادی حق سے محروم ہو جائیں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ کٹوتی کے ان اقدامات سے تقریباً چار لاکھ فلسطینی بنیادی امداد سے محروم ہو سکتے ہیں۔
سرکاری میڈیا آفس کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پٹی میں عالمی ادارہ خوراک کی امداد سے مستفید ہونے والوں کی تعداد تقریباً 15 لاکھ سے کم ہو کر 1.1 ملین رہ گئی ہے، جبکہ پروگرام کی طرف سے روزانہ فراہم کی جانے والی گرم کھانوں کی تعداد تقریباً 250 ہزار سے کم ہو کر 150 ہزار ہو گئی ہے، ایسے وقت میں جب انسانی ضروریات میں اضافہ ہو رہا ہے اور مارکیٹ سے خوراک حاصل کرنے کی خاندانوں کی صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے۔
یہ کٹوتیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب انسانی سرگرمیاں مالیاتی بحران کا شکار ہیں، کیونکہ عالمی ادارہ خوراک کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ غزہ اور مغربی کنارے میں اس کے آپریشنز کے لیے 420 ملین ڈالر سے زائد کا مالیاتی خسارہ موجود ہے، جو سال کے آخر تک مطلوبہ سطح پر اپنی خدمات فراہم کرنے کی اس کی صلاحیت کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
نقد امداد اور غذائی سِیٹس میں کمی
امدادی کٹوتی کے اقدامات صرف کھانوں اور براہ راست امداد تک محدود نہیں رہے، بلکہ عالمی ادارہ خوراک نے گذشتہ جولائی سے تقریباً 75 ہزار افراد کو دی جانے والی نقد امداد میں 25 فیصد تک کمی کرنا شروع کر دی ہے، اس کے ساتھ ساتھ تقریباً 220 ہزار خاندانوں کے لیے غذائی کوٹے کو نصف تک گھٹا دیا گیا ہے۔
اسی طرح فنڈنگ میں کمی کے یہ اقدامات مغربی کنارے تک بھی پھیل گئے ہیں، جہاں سرکاری میڈیا آفس کے حوالے سے مرکز اطلاعات فلسطین کی پیش کردہ معلومات کے مطابق ریلیف کوریج 50 فیصد تک کم ہو گئی ہے، اور مستفید ہونے والوں کی تعداد تقریباًچار لاکھ سے سے کم ہو کر دو لاکھ ہزار افراد رہ گئی ہے۔
دفتر اس بات سے خبردار کرتا ہے کہ اس پالیسی کا تسلسل ایسے وقت میں ہے جب فلسطینی خاندان اب بھی جنگ، نقل مکانی اور آمدنی کے ذرائع کے ضیاع کے اثرات جھیل رہے ہیں، جو امداد میں کسی بھی اضافی کمی کو خوراک اور بنیادی ضروریات فراہم کرنے کی ان کی صلاحیت پر تیزی سے اثر انداز کرتا ہے۔
خطرہ ہسپتالوں تک منتقل ہو رہا ہے
فنڈنگ میں کٹوتی کے اثرات خوراک کی سیکیورٹی کی حدود پر ہی ختم نہیں ہوتے، بلکہ ثوابتة نے صحت کے شعبے پر اس کے خطرناک اثرات سے خبردار کیا ہے، جو کہ عالمی ادارہ غزہ پٹی میں اپنی خدمات میں کمی کرنے اور کئی ہسپتالوں کے لیے ایندھن کی فراہمی بند کرنے کے اعلان کے ساتھ متوازی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایندھن کی کمی زندگی کے لیے انتہائی اہم طبی خدمات کو معطل کرنے کا خطرہ پیدا کرتی ہے، اور ہزاروں مریضوں اور زخمیوں کی زندگی کو بڑھتے ہوئے خطرات کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے، بالخصوص اس لیے کہ ہسپتال بجلی کے مسلسل بحران کے سائے میں اپنے بنیادی شعبے چلانے کے لیے جنریٹرز پر انحصار کرتے ہیں۔
ان خدمات میں انتہائی نگہداشت کے شعبے، بچوں کے انکیوبیٹرز اور ڈائیلاسز کے شعبے شامل ہیں، جو ایسے ادارے ہیں جو توانائی کی کٹائی یا جنریٹرز کے بند ہونے کو برداشت نہیں کر سکتے، جو ایندھن کی کمی کو ایک ایسے بحران میں بدل دیتا ہے جو تنظیمی پہلو سے بڑھ کر طبی دیکھ بھال کے تسلسل کے لیے ایک براہ راست خطرہ بن جاتا ہے۔