یہودی تہواروں کا بہانہ، غزہ کے مریض مسلسل دوسرے روز بھی علاج کے لیے باہر جانے سے محروم
مسلسل دوسرے روز بھی غزہ پٹی میں فلسطینی مریضوں اور زخمیوں کو علاج کے لیے باہر جانے سے محروم رکھا گیا، کیونکہ قابض اسرائیل کی طرف سے یہودی تہواروں کے باعث رفح اور کرم ابو سالم کی گزرگاہیں بند کر دی گئیں۔
غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) مسلسل دوسرے روز بھی غزہ پٹی میں فلسطینی مریضوں اور زخمیوں کو علاج کے لیے باہر جانے سے محروم رکھا گیا، کیونکہ قابض اسرائیل کی طرف سے یہودی تہواروں کے باعث رفح اور کرم ابو سالم کی گزرگاہیں بند کر دی گئیں، جس کی وجہ سے سنگین امراض میں مبتلا افراد وقت پر مخصوص ہسپتالوں تک نہیں پہنچ پا رہے۔
فلسطینی وزارت صحت نے پیر کے روز اپنے ایک مختصر بیان میں بتایا کہ قابض ریاست کے تہواروں کی وجہ سے مسلسل دوسرے روز بھی رفح زمینی گزرگاہ اور کرم ابو سالم کے راستے کسی بھی مریض یا زخمی کو باہر نہیں نکالا جا سکا۔
فلسطینی اراضی میں قابض اسرائیلی حکومت کے رابطہ کار یورام ہالیوی کے مطابق، جنوبی غزہ میں واقع رفح اور کرم ابو سالم کی گزرگاہیں یہودی تہواروں کے سبب اتوار اور پیر کے روز بند رہیں۔
وزارت صحت کے ایک سابقہ بیان کے مطابق، دونوں گزرگاہوں کی یہ بندش جمعرات کے روز قابض اسرائیل کی جانب سے مصر علاج کے لیے جانے والے مریضوں، زخمیوں اور ان کے لواحقین کی تعداد 136 سے گھٹا کر 61 فلسطینی کرنے کے اقدام کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔
اس وقت وزارت نے اس اسرائیلی اقدام کو علاج کے حق کی صریح خلاف ورزی قرار دیا تھا، اور اس بات پر سخت انتباہ جاری کیا تھا کہ سینکڑوں مریضوں کو بروقت مخصوص ہسپتالوں تک رسائی سے محروم کرنے کے نتیجے میں ان کی زندگیاں موت کے منہ میں دھکیلی جا رہی ہیں۔
وزارت صحت نے عالمی ادارہ صحت، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر اور تمام فعال بین الاقوامی اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کریں اور قابض اسرائیلی حکام پر براہ راست دباؤ ڈالیں تاکہ ان کے بقول ان جابرانہ اور من مانے شرائط کو روکا جا سکے۔
ہزاروں مریض انخلاء کے منتظر
گذشتہ اگست کے آخر میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے کہا تھا کہ غزہ پٹی کے ہزاروں مریض فوری طبی علاج کے حصول کے لیے اب بھی طبی انخلاء کے منتظر ہیں۔
گیبریسس نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اکتوبر سنہ 2023ء سے لے کر اب تک غزہ پٹی سے 13,237 مریضوں کو باہر نکالا گیا ہے، جن میں 6,276 بچے بھی شامل ہیں، اور ان کے ہمراہ 16,406 لواحقین بھی گئے ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت کے ایک سابقہ بیان کے مطابق علاج کے لیے سفر کرنے کی خاطر انتظار کی فہرست میں درج مریضوں اور زخمیوں کی کل تعداد 20,719 افراد تک پہنچ چکی ہے۔
گزرگاہ کی محدود بنیادوں پر بحالی اور مریضوں کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں
گذشتہ 2 فروری سنہ 2026ء کو قابض اسرائیل نے مئی سنہ 2024ء سے اپنے غاصبانہ قبضے میں لی گئی رفح گزرگاہ کو انتہائی محدود پیمانے اور سخت ترین پابندیوں کے ساتھ دوبارہ کھولا، تاکہ مریضوں، زخمیوں اور ان کے لواحقین کو باہر جانے اور باہر سے فلسطینیوں کو واپس آنے کی اجازت دی جا سکے۔
کچھ مہینے گزرنے کے بعد، کرم ابو سالم تجارتی گزرگاہ کے راستے بھی مریضوں اور زخمیوں کو باہر جانے کی اجازت دے دی گئی، تاہم اس مقصد کے لیے اس کے استعمال کی اجازت دینے کی کوئی واضح وجوہات نہیں بتائی گئیں۔
گزرگاہ کے دوبارہ کھلنے کے بعد سے غزہ پٹی واپس لوٹنے والے فلسطینیوں نے قابض فوج کی طرف سے کی جانے والی تذلیل اور ظلم و ستم کے بیانات دیے ہیں، جن میں حراست میں لیا جانا اور گھنٹوں تک سخت ترین تفتیش کے عمل سے گزرنا شامل ہے، اور اس کے بعد ہی انہیں اپنی منزل کی طرف آگے بڑھنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
صحت کا شعبہ جنگ کے گھناؤنے اثرات سے نبردآما
مریضوں اور زخمیوں کو سفر سے روکنے کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آ رہا ہے جب غزہ میں صحت کا شعبہ قابض اسرائیلی فوج کی طرف سے ڈھائی جانے والی نسل کشی کے بھیانک نتائج کا بدستور سامنا کر رہا ہے، کیونکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق طبی تنصیبات پر 445 حملے کیے گئے ہیں، جن کے نتیجے میں 155 تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
قابض اسرائیل کی جانب سے 8 اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع کی جانے والی اس نسل کشی کے نتیجے میں 73 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 74 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ شہری بنیادی ڈھانچے کا 90 فیصد حصہ ہولناک تباہی کا شکار ہو چکا ہے۔