واشنگٹن (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) امریکی ریپر میکل مور نے اعلان کیا ہے کہ وہ گلوکار ایڈ شیرن کے ساتھ اپنے میوزک ٹور سے حاصل ہونے والی ایک ملین ڈالر کی آمدنی فلسطینیوں کے لیے کام کرنے والی 6 تنظیموں کو عطیہ کریں گے۔میکل مور کو فلسطین کے حق میں بیان جاری کرنے پر میوزک ٹور کے دوران ہی ایڈ شیرن کے گروپ سے علیحدہ کر دیا گیا تھا۔
انہوں نے انسٹاگرام پر جاری بیان میں کہا کہ وہ گفتگو کا رخ دوبارہ فلسطینی عوام کی جانب موڑنا چاہتے ہیں جو ان کے بقول اب بھی مارے جا رہے ہیں، غیر ملکی فوجی قبضے میں زندگی گزار رہے ہیں اور آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔انہوں نے ارب پتی کاروباری شخصیت رابرٹ کرافٹ سے اپیل کی کہ وہ بھی اتنی ہی رقم عطیہ کریں۔
میکل مور نے کہا کہ اختلافات اپنی جگہ، تاہم اس بات پر اتفاق ہونا چاہیے کہ فلسطینیوں کی جانیں تحفظ کی مستحق ہیں۔
امریکی ریپر نے کہا کہ ان کا مؤقف کبھی شہرت یا تنازع پیدا کرنے کے لیے نہیں تھا بلکہ فلسطینیوں کے اپنے وطن میں آزادی، وقار اور تحفظ کے حق سے متعلق تھا۔ انہوں نے ان والدین کی جانب بھی توجہ دلائی جو بنیادی طبی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث اپنے بچوں کو ہسپتال لے جانے پر مجبور ہیں، جبکہ ڈاکٹر، طبی امدادی کارکن، صحافی اور امدادی کارکن مسلسل خدمات انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عطیہ دینا فلسطینی عوام کی مدد کا نسبتاً آسان طریقہ ہے، تاہم امداد بحران کے مکمل حل کے لیے کافی نہیں۔ ان کے مطابق اصل ضرورت سیاسی تبدیلی کی ہے اور فلسطینیوں کو بنیادی حقوق کے لیے مزید انتظار نہیں کرنا چاہیے۔میکل مور کے مطابق عطیے کی رقم Palestinian Children’s Relief Fund، Heal Palestine، Gaza Soup Kitchen، Medical Aid Palestine، اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے ایجنسی اور American Near East Refugee Aid کو دی جائے گی۔