مقبوضہ فلسطین – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قومی اتحاد برائے فلسطینی قبائل، عشائر اور خاندانوں نے بدھ کے روز تمام عرب قبائل، عشائر اور عرب اقوام کے عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ آنے والے جمعہ کے دن کو فلسطینی عوام اور غزہ کے ساتھ بھرپور یکجہتی اور یوم الغضب‘ کے طور پر منائیں، تاکہ قتل و غارت، محاصرہ اور بربادی کے لامتناهی سلسلے کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرایا جا سکے۔
قبائلی اتحاد نے اپنے جاری کردہ بیان میں امن کونسل اور اس کے سربراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو غزہ میں جاری اس بھیانک المیے اور مسلسل جنگ کی تمام تر ذمہ داری کا براہِ راست ذمہ دار ٹھہرایا ہے، جو اس بڑھتے ہوئے انسانی بحران کو روکنے کے لیے کسی بھی سنجیدہ اقدام سے مکمل گریزاں ہیں۔
بیان میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ غزہ میں واقع السعادہ بلڈنگ کا زمین بوس ہونا اور اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصانات اس سنگین خطرے کی ہوشربا عکاسی کرتے ہیں جو ان ہزاروں بے بس خاندانوں کی جانوں پر منڈلا رہا ہے جنہیں اس جنگ اور بربادی نے ان شکستہ اور گرنے کے قریب عمارتوں میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔
بیان میں مزید وضاحت کی گئی کہ جنگ کا تسلسل، تعمیرِ نو کے کاموں میں جان بوجھ کر ڈالی جانے والی رکاوٹیں، ہزاروں چٹکیوں میں بٹتی ہوئی بوسیدہ عمارتیں اور پٹی کے طول و عرض میں پھیلا ملبہ اس کربناک انسانی اذیت کو کئی گنا بڑھا رہا ہے جس میں فلسطینی کسمپرسی کی موت مرنے پر مجبور ہیں۔
قبائلی اتحاد نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امن کونسل اپنے مبینہ مجرمانہ سکوت اور غزہ میں بہتے ہوئے خون کو روکنے سے مکمل عاجزی کے باعث، اس بحران کو ختم کرنے کا ذریعہ بننے کے بجائے عملی طور پر اس گھناؤنے المیے کی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اقوام متحدہ، عرب ممالک، ثالث اور ضامن فریقوں سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے، تعمیرِ نو کے فوری آغاز، ملبے کے انہدام اور فلسطینی خاندانوں کے لیے محفوظ رہائش کی فراہمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدام کریں۔
بیان میں آنے والے موسم سرما کی سرد راتوں اور ایک سخت ترین موسمِ سرما کے خطرے سے خبردار کیا گیا ہے جو غزہ میں ہزاروں بے آسرا گھرانوں کی زندگیوں کو نگل لینے کے لیے تیار بیٹھا ہے، اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ وہاں کم و بیش 1500 ایسی خستہ حال عمارتیں اور رہائشی یونٹس موجود ہیں جو کسی بھی لمحے زمین بوس ہونے کو ہیں، اور جن کے اندر دسیوں ہزار معصوم شہری زندگی گزار رہے ہیں۔
اتحاد نے اس بات پر شدید زور دیا کہ ان متزلزل دیواروں اور موت کا کنواں بنی ہوئی عمارتوں کے خطرناک ملبے کو فوری طور پر ہٹایا جائے اور مکینوں کو پناہ گاہیں فراہم کی جائیں، نیز ان ہولناک رہائشی حالات کے جاری رہنے سے معصوم انسانی جانوں کے اتلاف کے انہونی خطرات سے خبردار کیا۔