غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) عز الدین القسام بریگیڈز نے اپنے عسکری کونسل کے رکن اور سینئر کمانڈر فرح أحمد عبد المجيد حامد کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ شہید فرح حامد کو مغربِ غزہ میں ایک اسرائیلی قاتلانہ حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
القسام بریگیڈز نے اپنے بیان میں کہا کہ "ابو أحمد” کے نام سے معروف شہید فرح حامد نے اپنی پوری زندگی مزاحمت اور جہاد میں گزاری۔ وہ سلواد کے اس معروف القسام سیل کا حصہ تھے جس نے انتفاضہ الاقصیٰ کے دوران مغربی کنارے میں نو ہلاکت خیز کارروائیاں انجام دیں، جن کے نتیجے میں چھ اسرائیلی (جن میں اکثریت فوجیوں کی تھی) ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ قابض دشمن کی جیلوں سے معاہدہ "وفاء الأحرار” کے تحت رہائی پانے کے بعد انہوں نے غزہ پٹی میں بھی اپنی مقاومتی سرگرمیاں جاری رکھیں اور اہم قیادت کے فرائض انجام دیتے رہے، یہاں تک کہ وہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔
القسام بریگیڈز نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہید فرح حامد کی شہادت سے مزاحمت کا یہ سفر رکنے والا نہیں ہے، اور قربانیوں کے باوجود یہ کارواں اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہے گا۔ انہوں نے مغربی کنارے کے غیور عوام کو پکار دی کہ وہ اپنی زمین، بیت المقدس اور حقوق کے دفاع کے لیے قابض دشمن کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔
واضح رہے کہ رام ہلا کے علاقے سلواد سے تعلق رکھنے والے اور غزہ میں جلاوطن 43 سالہ اسیرِ محرر فرح حامد بدھ کے روز غزہ شہر کے جنوب مغرب میں علاقے شیخ عجلین پر شارع الرشید کے قریب صیہونی بمباری کے نتیجے میں شہید ہو گئے تھے۔