غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ترجمان حازم قاسم نے ’امن کونسل‘ کے نمائندے نکولے ملادی نوف کے اس بیان کی سخت مذمت کی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ غزہ ابھی تعمیر نو کے عمل کے آغاز سے بہت دور ہے۔ انہوں نے اسے کونسل میں ان کے ذمے دار کردار سے فرارکے مترادف قرار دیا۔
حازم قاسم نے ایک پریس بیان میں نکولے ملادی نوف سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا کردار ادا کریں اور قابض اسرائیلی دشمن پر دباؤ ڈالیں تاکہ اسے طے شدہ معاہدات کا پابند بنایا جا سکے اور جنگ بندی کے معاہدے کی اس کی مسلسل خلاف ورزیوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ روڈ میپ کے نفاذ کے لیے کام کیا جائے جس پر فلسطینی دھڑوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے ملادی نوف اور امریکی انتظامیہ کے ساتھ اتفاق کیا تھا، جماعت اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ قابض حکومت اسے لاگو کرنے سے انکار کر رہی ہے۔
غزہ میں ’امن کونسل‘ کے سینیر نمائندے نکولے ملادی نوف نے ابوظبی میں تیسرے ’ہیلی‘ انٹرنیشنل فورم میں شرکت کے دوران کہا تھا کہ پٹی کی تعمیر نو کے مرحلے تک پہنچنا ابھی بہت دور ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کے باسی انتہائی کٹھن انسانی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں اور انہوں نے خبردار کیا کہ قطاع کے اندر اسرائیل کی طرف سے فوجی کارروائیوں کا جاری رہنا بڑے انسانی اثرات کا حامل ہوگا۔
انہوں نے دنیا کے کئی ممالک کی طرف سے غزہ کی تعمیر نو کے حوالے سے موجود وعدوں کا اشارہ کیا اور تعمیر نو کے عمل کے آغاز کی طرف پیش رفت کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ملادی نوف نے گذشتہ مئی میں ’الغد‘ اخبار کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو کے دوران اس بات پر زور دیا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے نفاذ پر پیش رفت کی جائے جس میں اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ اور فلسطینی دھڑوں کے ہتھیار ڈالنا اور ایک ایسی مدنی حکومت کی تشکیل شامل ہے جو قطاع میں روزمرہ کے امور کا انتظام سنبھالے۔
انہوں نے اس وقت واضح کیا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی اب بھی کمزور ہے اور انہوں نے قطاع سے اسرائیلی انخلا اور تعمیر نو کے لیے ضروری تعمیراتی مواد کے داخلے کا مطالبہ کیا تھا، اور یہ واضح کیا تھا کہ اس مقصد کے لیے جمع کی گئی رقوم اب بھی ناکافی ہیں۔
انہوں نے جنگ بندی کے منصوبے کے نفاذ کی حمایت کے مقصد سے مصر، قطر، ترکیہ اور امریکہ کے ساتھ جاری تعاون کا اشارہ کیا۔
اتوار کے روز ابوظبی میں تیسرے ’ہیلی‘ انٹرنیشنل فورم کے کام کا آغاز ہوا جو کہ ’’خلیج ایک دوراہے پر: تنازع، اثرات اور راستے کی درستگی‘‘ کے عنوان سے دو دن تک جاری رہے گا، اور اس کا اہتمام مشترکہ طور پر امارات سینٹر فار سٹریٹیجک سٹڈیز اینڈ ریسرچ اور انور قرقاش ڈپلومیٹک اکیڈمی نے کیا ہے۔