• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
اتوار 23 اگست 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

قابض اسرائیل کی جانب سے اسپیئر پارٹس کی فراہمی روکنے سے غزہ کا ٹرانسپورٹ شعبہ تباہی کے خطرے سے دوچار

مرکز نے اتوار کے روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا کہ پٹی میں متعلقہ حکام کے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس پابندی کی وجہ سے تقریباً 70 فیصد سول گاڑیاں مکمل یا جزوی طور پر ناکارہ ہو چکی ہیں۔

اتوار 23-08-2026
in خاص خبریں, رپورٹس, غزہ
0
قابض اسرائیل کی جانب سے اسپیئر پارٹس کی فراہمی روکنے سے غزہ کا ٹرانسپورٹ شعبہ تباہی کے خطرے سے دوچار
0
SHARES
0
VIEWS

غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) مرکز غزہ برائے انسانی حقوق نے غزہ کی پٹی میں ٹرانسپورٹ اور نقل و حمل کے نظام کی تیز رفتار ابتری پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے جو قابض اسرائیل کی جانب سے پٹی پر مسلط کردہ گھٹن ،ناک ناکہ بندی کے تسلسل اور اسپیئر پارٹس، انجن آئل، ٹائروں اور مکینیکل مرمت کے لوازمات کے داخلے پر جان بوجھ کر عائد کردہ پابندی کی وجہ سے ہے جنہیں نام نہاد "دوہرے استعمال کی اشیاء” کے زمرے میں ڈالنے کا بہانہ بنایا جا رہا ہے۔

مرکز نے اتوار کے روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا کہ پٹی میں متعلقہ حکام کے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس پابندی کی وجہ سے تقریباً 70 فیصد سول گاڑیاں مکمل یا جزوی طور پر ناکارہ ہو چکی ہیں جب کہ نسل کشی کی جنگ کے باعث نقل و حمل کے شعبے میں ہونے والے براہ راست نقصانات کا تخمینہ تقریباً 2.8 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

حقوق انسانی کے اس مرکز نے خبردار کیا کہ تیل اور اسپیئر پارٹس پر پابندی اس تکنیکی شریان کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے جس پر مکینوں کی زندگی کے سب سے اہم ادارے انحصار کرتے ہیں جن میں ہسپتال، تعلیم، ایمبولینسیں، پانی کے کنویں، بیکریاں اور امدادی ٹرک شامل ہیں جو کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے مسلط کردہ جامع ناکہ بندی کی پالیسی کا تسلسل ہے جو اکتوبر سنہ 2025ء کے جنگ بندی معاہدے کے باوجود ایندھن اور تیل کے ساتھ ساتھ بنیادی دیکھ بھال کے مواد کو بھی گھیرے ہوئے ہے۔

مرکز نے اشارہ کیا کہ ایمبولینسیں اور شہری دفاع کی گاڑیاں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے زمروں میں شامل ہو چکی ہیں کیونکہ انجنوں کے بوسیدہ ہونے، کولنگ سسٹمز کی خرابی اور اصل تیل کے ختم ہونے کے نتیجے میں ان میں سے ایک بڑی تعداد خدمات سے باہر ہو چکی ہے ایسے وقت میں جب غزہ میں سرکاری میڈیا آفس کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سنہ 2025ء کے آخر تک 211 ایمبولینسوں کو حملے کا نشانہ بنایا گیا اس کے علاوہ شہری دفاع کی 23 گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جس نے پورے ریسکیو سسٹم کی کمزوری کو مزید بڑھا دیا۔

مرکز نے خبردار کیا کہ اسرائیلی بمباری کے تسلسل اور زخمیوں کے بار بار گرنے کے سائے میں ایک بھی ایمبولینس کا خراب ہونا ایک ایسی تاخیر کا باعث بن سکتا ہے جو کسی انسان کی جان کے ضیاع کا سبب بنے جس میں تاخیر برداشت نہیں کی جا سکتی۔

بحران کے دل سے کہانیاں

انفرادی سطح پر پٹی کے متعدد باشندے یہ بیان کرتے ہیں کہ کیسے ٹرانسپورٹ کا بحران ان کی روزمرہ کی زندگی کی تفصیلات میں سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والے عوامل میں سے ایک بن چکا ہے۔

تینتیس سالہ حمادہ السيد کہتے ہیں کہ وہ اپنے کام کی جگہ پر لے جانے والی گاڑی کی تلاش میں طویل گھنٹے گزارتے ہیں اور کام کرنے والی گاڑیوں کی شدید قلت کی وجہ سے اکثر اوقات طویل فاصلہ پیدل طے کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

چھتیس سالہ عبد العزيز أحمد جو کہ ایک ذاتی گاڑی کے مالک ہیں جو مہینوں سے بند پڑی ہے واضح کرتے ہیں کہ اس کی مرمت کی لاگت اب اس کی مارکیٹ ویلیو سے بھی تجاوز کر چکی ہے جس کی وجہ سے وہ اسے مستقل طور پر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔

جب کہ پینتالیس سالہ سعيد شراب بیان کرتے ہیں کہ کس طرح ٹائروں اور معدنی تیل کی کمی نے ایک گاڑی کو چلانے یا اس کی دیکھ بھال کرنے کو ڈرائیور اور مسافر دونوں کے لیے ایک روزمرہ کا بوجھ بنا دیا ہے جو براہ راست مکینوں کے اپنے کاموں، سکولوں اور صحت کے مراکز تک پہنچنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔

قیمتوں میں اضافہ

مرکز غزہ نے خبردار کیا کہ گاڑیوں کے خراب ہونے کے ساتھ ساتھ اسپیئر پارٹس اور خود گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی بے مثال اضافہ ہوا ہے جہاں بعض صورتوں میں انجن کے ایک ڈبے کی قیمت تقریباً 3500 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ ٹرانسپورٹ سے متعلق تجارتی شعبوں کے نمائندوں کا اشارہ ہے کہ نسل کشی کی جنگ سے پہلے روزانہ 800 سے زیادہ ٹرک پٹی میں داخل ہوتے تھے جب کہ آج درآمدی نقل و حرکت کو تقریباً مفلوج کرنے والی شدید پابندیاں عائد ہیں اس صورت میں کہ جب قابض فوج تقریباً مکمل طور پر تباہ شدہ پٹی کے رقبے کے 70 فیصد حصّے پر کنٹرول جاری رکھے ہوئے ہے۔

مرکز نے خبردار کیا کہ اس بحران کا تسلسل پانی کو صاف کرنے والے پلانٹس اور سیوریج کے پمپوں کے بند ہونے کا اشارہ دیتا ہے جو ایک اضافی ماحولیاتی اور صحت کے بحران کے دروازے کھولتا ہے جب کہ بیکریوں کو کام جاری رکھنے میں بڑھتی ہوئی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ وہ ایسے آلات پر انحصار کرتی ہیں جنہیں چلانے کے لیے دورانیے کی دیکھ بھال اور تیل کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس نے یونیسف کے اس پہلے انتباہ کا بھی اشارہ کیا کہ ٹائروں، معدنی تیل اور اسپیئر پارٹس کی شدید قلت کا بڑھنا اب بنیادی خدمات کے تسلسل کے لیے ایک براہ راست خطرہ بن رہا ہے بالخصوص پانی اور سیوریج اور انسانی خدمات کے شعبوں میں۔

منظم ناکہ بندی اور گھنائونا کھیل

مرکز غزہ برائے انسانی حقوق کا ماننا ہے کہ اسپیئر پارٹس اور انجن آئل پر یہ منظم پابندی تقریباً تین سال سے جاری ناکہ بندی کی پالیسی کے وسیع تر سیاق و سباق سے الگ نہیں کی جا سکتی جو اس ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے جو پٹی میں روزمرہ کی زندگی کو کم سے کم حد تک قائم رکھنے کا سبب بنتی ہے خوراک، دوا اور ایندھن سے لے کر دیکھ بھال اور ٹرانسپورٹ کے لوازمات تک۔

مرکز کے تخمینے کے مطابق یہ نمونہ اس بات کا مصداق بنتا ہے جو نسل کشی کے جرم کی روک تھام اور اس کی سزا کے کنونشن برائے سنہ 1948ء کے آرٹیکل دوم میں بیان کیا گیا ہے جس میں جان بوجھ کر ایسی زندگی کی حالتیں مسلط کرنا شامل ہے جن کا مقصد کسی انسانی گروہ کو مکمل یا جزوی طور پر ہلاک کرنا ہے اسے اس کی روزمرہ کی زندگی کے تسلسل کے لیے ضروری ذرائع سے محروم کر کے بشمول علاج تک پہنچنے کی صلاحیت بیماروں اور زخمیوں کی نقل و حمل اور پانی اور خوراک کو محفوظ بنانا۔

اس نے اس بات پر زور دیا کہ جمع ہونے والی اسرائیلی پالیسیاں ایک ہی سمت میں جاتی ہیں اور وہ یہ ہے کہ غزہ کی پٹی کو انسانی زندگی کے لیے رہنے کے قابل نہ بنایا جائے تاکہ اس کے مکینوں سے اسے خالی کرنے کی تیاری کی جا سکے۔

مرکز غزہ برائے انسانی حقوق نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں اسپیئر پارٹس، انجن آئل، ٹائروں اور دیکھ بھال کے لوازمات کے داخلے پر عائد پابندی کو بغیر کسی شرط کے اٹھانے پر مجبور کرنے کے لیے فوری کارروائی کریں کیونکہ یہ غیر درجہ بند اہم ضروریات میں سے ہیں جنہیں دوہرے استعمال کی اشیاء کے طور پر درجہ بندی نہیں کیا جا سکتا۔

مرکز نے نسل کشی کے جرم کی روک تھام کے کنونشن میں شامل ریاستوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس جرم کے تسلسل کو روکنے کے اپنے قانونی فرائض کو پورا کریں اور بین الاقوامی فوجداری عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کی پٹی میں کیے جانے والے جرائم کے بارے میں جاری تحقیقات کے دائرہ کار میں نقل و حمل اور ریسکیو کے وسائل کو محدود کرنے کی پالیسی کو شامل کرے یہ انتباہ کرتے ہوئے کہ موجودہ صورتحال کا تسلسل ناگزیر طور پر جانوں کے مزید ایسے نقصانات کا باعث بنے گا جن کی تلافی نہیں کی جا سکتی۔

Tags: gazaGaza BlockadeGaza EconomyHumanitarian CrisisIsraeli restrictionsMiddle East ConflictPalestine Newsspare partstransportation sector
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.