غزہ میں آبی بحران سنگین، پانی و سیوریج کا نظام کسی بھی وقت مکمل طور پر بیٹھ سکتا ہے
) غزہ کی پٹی کی بلدیات کے یونین کے نائب صدر اور خان یونس کے میئر علاء الدین البطہ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ قابض اسرائیل کی طرف سے ایندھن اور جنریٹرز چلانے کے لیے درکار اسپیئر پارٹس کے داخلے پر مسلسل پابندی کے نتیجے میں غزہ کے مکینوں کو ایک سنگین صحت اور ماحولیاتی بحران کا سامنا ہے۔
غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی کی بلدیات کے یونین کے نائب صدر اور خان یونس کے میئر علاء الدین البطہ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ قابض اسرائیل کی طرف سے ایندھن اور جنریٹرز چلانے کے لیے درکار اسپیئر پارٹس کے داخلے پر مسلسل پابندی کے نتیجے میں غزہ کے مکینوں کو ایک سنگین صحت اور ماحولیاتی بحران کا سامنا ہے۔
علاء الدین البطہ نے خان یونس میں یہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پانی کی شدید قلت اور بنیادی خدمات کی ابتر ہوتی ہوئی صورتحال کے خطرناک نتائج سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بیس لاکھ سے زائد فلسطینی پینے اور گھروں میں استعمال کے لیے پانی کی قلت کا شکار ہیں۔ انہوں نے آٹھ اکتوبر سنہ 2023ء کو غزہ پر مسلط کی جانے والی نسل کشی کی جنگ کے بعد سے گرمی کی شدت اور صحت کے نظام کی بربادی کے ساتھ ساتھ اجتماعی پیاس کے خطرے سے خبردار کیا۔
البطہ نے واضح کیا کہ جنگ کے آغاز سے ہی بلدیاتی عملہ پانی اور نکاسی آب کے نیٹ ورک کی مرمت، سڑکیں کھولنے، کچرا اور ملبہ ہٹانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے، مگر سازوسامان، ایندھن اور اسپیئر پارٹس کی کمی ان کے فرائض کی انجام دہی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پانی کے کنوؤں اور سیوریج پلانٹس کو چلانے والے درجنوں جنریٹرز کو ایندھن کی شدید قلت کے باعث بند ہونے کا خطرہ ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ بلدیات کو گذشتہ مارچ سے ملبہ ہٹانے کے لیے مخصوص ڈیزل کی ایک بوند بھی موصول نہیں ہوئی، جبکہ بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے اس سے قبل بہت محدود مقدار میں ایندھن ملتا تھا جسے ملبہ ہٹانے اور سڑکیں صاف کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
البطہ نے بین الاقوامی برادری اور عالمی اداروں کے اس طرزِ عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جسے انہوں نے بلدیات کے کام کے لیے ضروری سامان کی فراہمی میں سست روی سے تعبیر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تقریبا سات سو جنریٹرز کو تیل کی ضرورت ہے، مگر مطلوبہ مقدار صرف چالیس جنریٹرز کی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہی داخل ہو سکی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ سیوریج پلانٹس کی بندش سے گندا پانی سڑکوں پر پھیل سکتا ہے اور بے گھر افراد کے خیموں تک پہنچ سکتا ہے، جو کہ بیماریاں اور وبائیں پھیلنے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ البطہ نے بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ اور مصر، ترکیہ اور قطر کے ثالثوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایندھن، اسپیئر پارٹس اور مطلوبہ مشینری کے داخلے کے لیے دباؤ ڈالیں اور بلدیات کی ضروریات کو پورا کرنے اور اہم خدمات کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر ایک انسانی کوریڈور کھولیں۔