عالمی یومِ انسانی ہمدردی، حماس کا غزہ میں امدادی سرگرمیاں مزید مؤثر بنانے کا مطالبہ
حماس نے عالمی یومِ انسانی ہمدردی کے موقع پر اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی امدادی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں امدادی سرگرمیوں کو مزید وسیع اور مؤثر بنایا جائے۔
غزہ (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) حماس نے عالمی یومِ انسانی ہمدردی کے موقع پر اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی امدادی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں امدادی سرگرمیوں کو مزید وسیع اور مؤثر بنایا جائے، فلسطینی عوام کی استقامت کی حمایت کی جائے اور شہریوں و امدادی کارکنوں کے خلاف اسرائیلی خلاف ورزیوں پر اسرائیل کو جواب دہ ٹھہرایا جائے۔
حماس نے بدھ کے روز جاری ایک بیان میں کہا کہ ہر سال 19 اگست کو منایا جانے والا عالمی یومِ انسانی ہمدردی اس سال ایسے وقت میں آیا ہے جب غزہ کی پٹی، مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں اسرائیلی حملے اور خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ تحریک نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی حکومت جنگ بندی کی پاسداری سے انکار کرتے ہوئے شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور غزہ میں انسانی امداد کی رسائی میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔
حماس کے مطابق غزہ میں کئی ماہ تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران اسرائیل نے نہ صرف انسانی امداد اور بنیادی ضروریات کی ترسیل روکی بلکہ امدادی کارکنوں اور فلاحی اداروں کے اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے جاں بحق ہوئے۔ تحریک نے ان حملوں کو جنگی جرائم قرار دیا۔
حماس نے کہا کہ عالمی یومِ انسانی ہمدردی فلسطینی عوام کی مدد میں انسانی امدادی اداروں کے اہم کردار کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب غزہ میں انسانی بحران سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔
تحریک نے عالمی برادری، بالخصوص ریاستوں، حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی سیاسی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے اسرائیل پر دباؤ ڈالیں، اس کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ رکوانے کے لیے اقدامات کریں اور ذمہ داروں کو جواب دہ بنائیں۔
حماس نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امدادی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینیوں کو انسانی امداد کی فراہمی جاری رکھیں، اسرائیلی دباؤ کا مقابلہ کریں اور غزہ کی پٹی میں انتہائی کسمپرسی کی حالت میں موجود 20 لاکھ سے زائد بے گھر افراد کی فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کریں۔
تحریک نے اقوام متحدہ کے اداروں اور عرب، اسلامی و بین الاقوامی تنظیموں سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ غزہ میں انسانی امداد، صحت، تعلیم اور ترقیاتی پروگراموں کو وسعت دی جائے اور موسمِ سرما کی آمد سے قبل عارضی رہائش گاہوں اور موسمی حالات سے محفوظ خیموں کی غزہ میں رسائی یقینی بنائی جائے۔
حماس نے فلسطین اور بیرونِ ملک، بالخصوص غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے، بیت المقدس، مہاجر کیمپوں اور فلسطینی تارکینِ وطن کے درمیان کام کرنے والے مقامی و بین الاقوامی امدادی کارکنوں اور اداروں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی انسانی، طبی، تعلیمی اور امدادی خدمات کو سراہا۔
حماس نے زور دیا کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی اور بڑھتی ہوئی جارحیت کے پیش نظر محض مذمتی بیانات کافی نہیں رہے۔ تحریک نے ریاستوں، حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل پر مؤثر دباؤ ڈالنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور اسے فلسطینیوں اور امدادی کارکنوں کے خلاف جاری خلاف ورزیاں روکنے پر مجبور کیا جائے۔