دوحہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قابض اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فی الوقت غزہ کی پٹی پر حملے نہ کرے۔ دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے ان کے بیانات کا خیرمقدم کرتے ہوئے امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قابض حکومت پر دباؤ ڈالے کہ وہ جنگ بندی معاہدے کی پابندی کرے اور غزہ کے حوالے سے ٹرمپ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کی طرف بڑھے۔
ٹرمپ نے "فاکس نیوز” چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے معاملے میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور انہوں نے اس بات کا اشارہ بھی دیا کہ امریکہ کے حماس کے ساتھ خصوصی تعلقات ہیں۔
قابض اسرائیل پر مزید دباؤ کا مطالبہ
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ٹرمپ کے بیانات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پر حملے روکنے کے لیے ان کا مطالبہ جنگ بندی کے راستے پر چلنے کا اعادہ ہے۔ قاسم نے امریکی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ قابض حکومت کو معاہدے پر عمل درآمد کرنے کا پابند بنائے اور غزہ کے لیے ٹرمپ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھائے۔
واضح رہے کہ حماس نے جولائی کے آخر میں مشروط طور پر امریکی روڈ میپ کے دوسرے مرحلے کو قبول کیا تھا۔ حماس نے اپنی عسکری اور سول حکمرانی چھوڑ کر ایک نئی فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے سپرد کرنے اور دھڑوں کو بتدریج غیر مسلح کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی، جس کے بدلے میں قابض اسرائیل کو غزہ سے مکمل انخلا اور جنگ بندی کرنی تھی۔
سفارتی سرگرمیاں
ٹرمپ کے یہ بیانات خطے میں امریکی سفارتی سرگرمیوں کے درمیان سامنے آئے ہیں، جن کی قیادت امریکی صدر کے داماد اور خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر اور پیس کونسل کے ڈائریکٹر نکولائی ملاڈینوف کر رہے ہیں۔ کشنر اور ملاڈینوف نے مصری شہر العلمین میں حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ خلیل الحیہ سے ملاقات کی، جبکہ کشنر نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے بھی شرم الشیخ معاہدے کے سمجھوتوں کو مستحکم کرنے پر بات چیت کی۔ اس کے بعد کشنر، ملاڈینوف اور سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے یروشلم میں نیتن یاہو سے ملاقات کی تاکہ منصوبے پر عمل درآمد اور حائل رکاوٹوں پر تبادلہ خیال کر سکیں۔
قاہرہ میں حماس کا وفد کی ملاقاتیں
حماس کا ایک اعلیٰ سطحی وفد خلیل الحیہ کی قیادت میں گزشتہ روز قاہرہ پہنچا، جو حماس کی صدارت سنبھالنے کے بعد ان کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ اس دورے کا مقصد جنگ بندی کے راستے کو آگے بڑھانا اور دوسرے مرحلے میں داخل ہونا ہے۔
ٹرمپ کے تازہ ترین امن منصوبے میں بتدریج مراحل شامل ہیں، جن کا آغاز مکمل جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے، اور حماس کے ہتھیاروں کو جمع کرنے اور عسکری ڈھانچے کو ختم کرنے سے ہوتا ہے۔ اس منصوبے میں اسرائیل کا بتدریج انخلا، بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی اور ایک نئی فلسطینی پولیس فورس کی تشکیل شامل ہے جو غزہ کا انتظام سنبھالے گی۔ اس میں پیس کونسل کی نگرانی میں غزہ کی تعمیر نو اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی بھی شامل ہے۔
نیتن یاہو رکاوٹ
دوسری جانب نیتن یاہو کی حکومت اس منصوبے پر عمل درآمد میں مرکزی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ نیتن یاہو موجودہ مسودے کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کر رہے ہیں کہ کسی بھی انخلا سے پہلے حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کیا جائے اور اس کی فنڈنگ کے ذرائع کاٹے جائیں۔ نیتن یاہو ایک آزاد سکیورٹی اسسمنٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کے تحت قابض فوج کو غزہ کے اندر عسکری کارروائی کی آزادی ہو، جسے حماس اور ثالث دونوں مسترد کرتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کا یہ موقف اسرائیلی انتخابات کی وجہ سے ہے، کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ کسی بھی قسم کی رعایت ان کی دائیں بازو کی مخلوط حکومت کو گرا سکتی ہے۔
دوسری جانب قابض فوج اکتوبر 2025ء سے جاری جنگ بندی معاہدے کی روزانہ خلاف ورزیاں کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 1258 فلسطینی شہید اور 4139 زخمی ہو چکے ہیں۔