غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ میں وزارتِ ترقیِ اجتماعی نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں دو لاکھ فلسطینیوں کو، جن میں نصف تعداد بچوں کی ہے، غیر معمولی انسانی مشکلات کا سامنا ہے، اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان میں سے نوے فیصد سے زیادہ افراد بوسیدہ خیموں اور تباہ شدہ ملبے کے ڈھیروں کے نیچے بے گھر ہو کر رہ گئے ہیں۔
وزارت سماجی ترقی کی طرف سےجاری کردہ بیان کے اعداد و شمار سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اس پٹی میں کمزور طبقات کی ایک بڑی تعداد آباد ہے، جن میں ایک لاکھ آٹھ ہزار سے زائد بزرگ، تقریباً سینتالیس ہزار بیوائیں اور ایک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ معذور افراد شامل ہیں۔
وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ دسیوں ہزار زخمیوں، کینسر اور گردے کے عارضے میں مبتلا مریضوں اور شدید غذائی قلت کا شکار بچوں کی موجودگی کے ساتھ ساتھ خوراک اور طبی سامان کی شدید قلت کے باعث انسانی نظام کو انتہائی کٹھن دباؤ کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور ’اوچا‘ اور فلسطینی مرکزی بیورو برائے شماریات کی رپورٹوں سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ لگ بھگ انیس لاکھ افراد، یعنی غزہ کی آبادی کا تقریبا نوے فیصد حصہ بار بار کی جانے والی جبری نقل مکانی کا نشانہ بن چکا ہے، جبکہ پٹی میں پینسٹھ فیصد سے زائد عمارات اور رہائشی اکائیاں جزوی یا کلی طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔
اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے ’یونیسف‘ نے اس سے قبل اس امر کی توثیق کی تھی کہ کم از کم سترہ سے انیس ہزار ایسے بچے موجود ہیں جو اپنے سرپرستوں سے محروم یا اپنے خاندانوں سے بچھڑ چکے ہیں، جبکہ غزہ میں ایک ملین سے زائد بچوں کو جنگ اور محاصرے کے شدید صدمات کی وجہ سے فوری نفسیاتی اور سماجی مدد کی ضرورت ہے۔
فلسطین میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور ’اوچا‘ نے گذشتہ ماہ جولائی کے دوران بتایا کہ غزہ کی پٹی کی ستاسی فیصد آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے، جبکہ دس فیصد آبادی قحط کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔
قابض فوج نے مصر کے شہر شرم الشيخ میں عرب اور امریکی ثالثی کے تحت دس اکتوبر سنہ 2025ء کو طے پانےوالے جنگ بندی اور مسلط کردہ جارحیت و نسل قطع کرنے کے معاہدے کی خلاف ورزی کا سلسلہ مسلسل تین سو نویں دن بھی جاری رکھا ہے۔
غزہ کی پٹی میں اسرائیلی خلاف ورزیاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گذشتہ جمعہ اکتیس جولائی سنہ 2026ء کو ’روڈ میپ‘ کے دوسرے مرحلے کا آغاز کرنے کے لیے ایک ’نئے معاہدے‘ تک پہنچنے کے اعلان کے برعکس جاری ہیں۔