غزہ -(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی میں اب آٹے کی ایک بوری مل جانا کسی معجزے سے کم نہیں، لیکن المیہ یہ ہے کہ اس بوری کا حصول تو صرف مصائب کا نقطہ آغاز ہے۔ اصل امتحان تو اس کے بعد شروع ہوتا ہے کہ اس سفید سونے کو جو موت کے سائے میں جیتی ہوئی ایک نسل کا واحد سہارا ہے، اسے سڑنے اور کیڑوں سے کیسے بچایا جائے۔
آسمان سے برستی آگ، بجلی کی تاریکی اور سر چھپانے کے لیے بوسیدہ خیموں کی تنگی نے آٹے کی بوریوں کو کیڑے مکوڑوں کی آماجگاہ بنا دیا ہے۔ یہ خوراک جو ہزاروں خاندانوں کے لیے زندگی کی آخری امید ہے، اب تپتی گرمی اور نمی کی نذر ہو رہی ہے، جبکہ یہ لوگ پہلے ہی فاقہ کشی اور قحط زدہ حالات کے دہانے پر کھڑے ہیں۔
خیموں اور پناہ گاہوں میں رہنے والے ان بے بس لوگوں کے پاس آٹا محفوظ کرنے کے لیے ٹھنڈی اور خشک جگہ کہاں؟ موسمِ گرما کی تپش اور ہوا میں پھیلی ہوئی نمی آٹے کو پل بھر میں تلف کر دیتی ہے۔
خیموں کی جلتی ہوئی فضا میں آٹے کی بوری کا کیا حشر ہوتا ہے؟
آٹے کے سڑ جانے کا خوف اور اسے بدلنے کی سکت نہ ہونا، یہ ایک ایسی روزانہ کی جنگ ہے جو ہر فلسطینی اپنی بقا کے لیے لڑ رہا ہے۔
بے گھر محمد العربلشی کا لہجہ درد سے بوجھل ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ”آٹے کی ایک بوری حاصل کرنا تو اب ایک کارنامہ ہے، لیکن اصلی اذیت تو تب شروع ہوتی ہے جب اسے خیمے کے اندر لاتے ہیں۔ ہمیں اب اس بوری کا اتنا ڈر رہتا ہے جتنا اپنی جان کا۔ جیسے ہی بوری ہاتھ آتی ہے، اسے بچانے کی ایک نہ ختم ہونے والی کشمکش شروع ہو جاتی ہے۔ خیمے کے اندر کی حبس زدہ گرمی کیڑے مکوڑوں کو اس میں تیزی سے پنپنے پر مجبور کرتی ہے۔ ایک کلو آٹا ضائع ہو جانا ہماری رگوں سے خون نچڑنے جیسا ہے۔ اس لیے ہم گھنٹوں اسے چھاننے اور چننے میں گزار دیتے ہیں تاکہ اسے پھینکنے کی نوبت نہ آئے، کیونکہ ہمارے پاس کل کے لیے کچھ بھی نہیں ہے“۔
روزمرہ کی کربناک تفصیلات
ام احمد الصالح کے آنسو ان کی بے بسی کی گواہی دے رہے ہیں کہ کس طرح آٹے کو محفوظ کرنا خیمے کے اندر کی زندگی کا ایک دردناک حصہ بن گیا ہے۔
وہ بتاتی ہیں کہ ”میں آٹے کو خیمے کے سب سے ٹھنڈے کونے میں چھپا کر مضبوطی سے باندھ دیتی ہوں، مگر گرمی تو ہر سوراخ سے راستہ بنا لیتی ہے۔ چند دن گذرتے ہیں تو سسری اس میں پھیلنا شروع ہو جاتی ہے۔ میں مجبوری میں اسے ہر بار گوندھنے سے پہلے کئی بار چھانتی ہوں، کیونکہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں سارا آٹا ضائع نہ ہو جائے اور ہم بھوکے نہ مر جائیں۔“
یہ لاکھوں فلسطینی ان بوسیدہ خیموں میں سسک رہے ہیں جو نہ گرمی کی شدت سے بچا سکتے ہیں اور نہ ہی سردی کی کانپتی راتوں سے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے گھروں کو قابض صہیونی دشمن کی سفاکیت نے چونتیس مہینوں کی نسل کشی کے دوران خاک میں ملا دیا ہے۔
ماہرینِ خوراک کا موقف
غذائی ماہر میسون مصلح اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتی ہیں کہ خراب آٹے کا استعمال زندگی کے لیے کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ گرمی اور ذخیرہ کرنے کے ناممکن حالات کس طرح زہریلی پھپھوندی اور کیڑوں کی افزائش کو دعوت دیتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ”اگر معاملہ صرف کیڑوں تک محدود ہو تو اسے صاف کیا جا سکتا ہے، مگر جب آٹا نمی سے آلودہ ہو جائے یا اس کی بو اور رنگ بدل جائے تو یہ زہر بن جاتا ہے۔ یہ ہماری قوم کے بچوں کی صحت کے لیے ایک خاموش قاتل ہے۔“
غزہ میں آٹے کا بحران صرف مقدار کی کمی کا نام نہیں، بلکہ یہ ہر اس نوالے کو بچانے کی جدوجہد ہے جو کسی طرح ان کے دسترخوان تک پہنچ پاتا ہے۔ نقل مکانی کے مسلسل سفر اور زندگی کے اجڑتے ہوئے حالات میں، اب روٹی کا ایک ٹکڑا بھی اس تپتی زمین پر محفوظ نہیں ہے۔
یہ بحران غزہ کی انسانی بربادی کا ایک اور تاریک باب ہے، جہاں کے لوگ روزانہ اپنی خوراک، اپنی عزت اور اپنی زندگی کو بچانے کے لیے موت کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ یہ وہ آگ ہے جس میں غزہ کا ہر باشندہ، ہر لمحہ جل رہا ہے۔