غزہ -(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) تاریخ کے اس حساس اور فیصلہ کن موڑ پر اکتیس جولائی سنہ 2026ء کو اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سابق سیاسی بیورو کے سربراہ، سابق فلسطینی وزیراعظم اور عظیم قومی رہنما الشیخ الشهید اسماعیل ہنیہ ابو العبد کی شہادت کی دوسری برسی انتہائی عقیدت اور احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے جو ایرانی صدر کی حلف برداری کی پُروقار تقریب میں شرکت کے فورا بعد تہران میں قابض اسرائیل کے بزدلانہ اور سفاکانہ ٹارگٹ کلنگ کے ایک تاریک شب خون میں جامِ شہادت نوش کر گئے تھے۔
فلسطینی عوام کی تاریخ میں اسماعیل ہنیہ کا اسمِ گرامی محض ایک نام نہیں بلکہ حریت، استقامت اور جہد مسلسل کا ایک ایسا استعارہ ہے جس نے اپنی پوری حیات میں طویل سیاسی جدوجہد، عزمِ مصمم اور گراں قدر قربانیوں کی ایک تابناک داستان رقم کی۔ اہلِ فلسطین نے انہیں ایک سچے داعی، نڈر مجاہد، جق گو اور فصیح خطیب، بے باک قومی قائد، باوقار فلسطینی حکومت کے سربراہ اور بانیِ تحریک شہید شیخ احمد یاسین کے ایسے وفادار اور شانہ بشانہ رہنے والے رفیق کار کے طور پر دیکھا جنہوں نے تادمِ شہادت وطنِ عزیز اور اپنے مظلوم عوام کے مقدس کاز کے بوجھ کو اپنے شانوں پر اٹھائے رکھا۔
شہیدِ وطن کی یہ دوسری برسی ایسے المناک اور متلاطم ماحول میں لوٹ کر آئی ہے جب طوفان الاقصیٰ معرکہ کے روح پرور اور لرزہ خیز اثرات ہنوز فضاؤں میں موجزن ہیں، جس نے خطے کے سیاسی اور عسکری افق پر ایک ایسا انقلابی اور اٹل موڑ رقم کیا جس کے گہرے نقوش تاریخ کے ماتھے پر ہمیشہ چمکتے رہیں گے۔ اس مقدس موقع پر حماس ایسے درخشاں اور مدبر رہنما کی پاکیزہ سیرت کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے جنہوں نے اپنی عمرِ عزیز کا ہر لمحہ میدانِ عمل میں صرف کیا اور دنیا کے ہر کونے میں مظلوم فلسطین کی آواز کو بلند و بالا رکھا۔
شہید ہنیہ کا نام آج بھی حق و باطل کے اس جاری زندہ و جاوید معرکے کا استعارہ ہے جہاں شجاعت کے پیکر فلسطینی مجاہدین قابض اسرائیلی درندگی اور غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ ظالمانہ جنگ کے خلاف سینہ سپر ہیں۔ آج بھی جب غاصب اور سفاک دشمن اپنی آہنی مشینری کے بل بوتے پر باطل کو سچ اور ظلم کو حقیقت بنا کر پیش کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہے، تو دوسری طرف غزہ اور فلسطین کی خاک پر بکھری صمود اور پامردی کی لازوال تصویریں اس سچی قوم کی گواہی دے رہی ہیں جو اپنی مٹی، اپنی تہذیب اور اپنے حقِ خودارادیت سے رتی بھر بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
شہیدِ عالی مرتبت کا یہ راسخ اور اٹل ایمان تھا کہ حریت اور آزادی کی منزل تک پہنچنے کا واحد راستہ اپنے حقوق، اصولوں اور نظریات سے وابستگی میں مضمر ہے، جس کا اظہار انہوں نے اپنے ایک تاریخی اور دل گداز خطاب میں ان الفاظ کے ساتھ کیا تھا: "وہ مبارک وقت آ پہنچا ہے کہ ہمارے اصیل، برحق اور جائز حقوق ہمیں مل کر رہیں، اور ہمارے وہ غیور عوام جنہوں نے سات اکتوبر کو غلاظتِ غلامی اور جبر کے طوق کو توڑ کر تاریخ ساز بغاوت کی تھی، اس وقت تک ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے جب تک کہ وہ قابض کے ناپاک وجود سے مکمل آزادی، حقیقی استقلال، وطن واپسی اور حقِ خودارادیت کے پرچم تلے اپنی منزلِ مقصود کو نہیں پا لیتے اور یہی دراصل اس خطے میں امن اور دائمی استحکام کا واحد دروازہ ہے”۔
اسماعیل ہنیہ کوئی معمولی یا روایتی مدبر نہیں تھے؛ انہوں نے اپنے پیچھے فکری، سیاسی اور اخلاقی اقدار کا ایک ایسا گراں بہا ورثہ چھوڑا ہے جو تمام تر تنظیمی حدود اور فریم ورک سے ماورا ہو کر جدید فلسطینی تاریخ کے دل پر ثبت ہو چکا ہے۔ ان کے پُرجوش خطابات، جرات مندانہ مواقف اور وسیع سیاسی وژن کی گونج ہمیشہ تحریکِ آزادی کے سینے میں دھڑکتی رہے گی۔
عظیم انقلابات اور اقلابِ دہر کا سچا سالار
طوفان الاقصیٰ معرکہ کے اس ہولناک اور تاریخ ساز دور میں جب فلسطینی کاز کو بقا کی جنگ کا سامنا تھا، اسماعیل ہنیہ نے تحریک حماس کی قیادت کا بوجھ ایسے نازک موڑ پر اٹھایا جو تاریخِ انسانی کے پیچیدہ ترین ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے انتہائی کمالِ فن اور بصیرت کے ساتھ تحریک کے سیاسی تعلقات اور مزاحمت کے نازک ترین سفارتی و عسکری امور کو اس وقت سنبھالا جب خطے اور دنیا میں تیز رفتار تبدیلیاں طوفان کی طرح امڈ رہی تھیں۔
شہیدِ مظلوم نے اس پُراشوب دور میں فرمایا تھاکہ "ہمارے عوام کی استطاعت سے بڑھ کر تاریخ ساز استقامت اور غزہ کے درویشوں کے انمول اور فولادی ثابت قدمی کے تناسب سے ہی ہمارا سیاسی موقف بھی فولادی، چٹان کی طرح سخت اور مثبت رہا ہے۔”
شہید ہنیہ اس نادر اور باکمال صفت سے مالامال تھے کہ وہ بیک وقت اسلامی اصولوں اور قومی ثوابت سے آہنی وابستگی اور بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں حُسنِ تدبیر اور لچک کا دامن تھامنے کا ہنر جانتے تھے۔ ان کی یہ بصیرت ان کے طویل نضالی تجربے اور عوامی سطح پر ان کی غیر معمولی اور مضبوط موجودگی کا ثمر تھی۔
طوفانِ بلاخیز کی اس جنگ کے عین ہنگام میں انہوں نے پُراعتماد لہجے میں یہ تاریخی الفاظ کہے تھے کہ "ہمیں اپنے پروردگار کی ذات اور اپنے بازوؤں کی طاقت پر کامل یقین ہے کہ یہ غاصبانہ جارحیت پاش پاش ہو کر رہے گی، اور کتنا ہی طویل وقت کیوں نہ بیت جائے، یہ خونخوار دشمن ہماری مقدس زمین سے ذلت و رسوائی کے ساتھ پسپا ہونے پر مجبور ہو گا، کیونکہ حماس اور القسام بریگیڈز مٹنے کے لیے نہیں بلکہ باقی رہنے کے لیے آئی ہیں، اور ہم اللہ کی طرف سے نصرت، فتحِ مبین اور غلبے کے اٹل وعدے پر کامل یقین رکھتے ہیں۔”
پناہ گزین کیمپ الشاطی کی خاک سے لے کر بامِ عروج تک
اسماعیل عبد السلام احمد ہنیہ ابو العبد تئیس جنوری سنہ 1962ء کو غزہ شہر کے مغرب میں واقع بے بس اور مظلوم پناہ گزینوں کے کیمپ الشاطی کے آغوش میں اس وقت پیدا ہوئے جب ان کے نہتے اور مظلوم خاندان کو سنہ 1948ء کے فلسطینی نکبہ کے ہولناک ایام میں مقبوضہ عسقلان کے سرسبز قریہ الجورہ سے زبردستی اور سفاکی کے ساتھ دیس نکالا دے دیا گیا تھا۔
ان کی نشوونما اور تربیت ایک ایسے تاریک پناہ گزینی کے ماحول میں ہوئی جو بچھڑے ہوئے وطن کی دردناک یادوں اور آہوں سے لبریز تھا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی اور ثانوی تعلیم اقوام متحدہ کے تحت چلنے والے انروا کے معمولی اسکولوں سے حاصل کی، اس کے بعد ازہر انسٹی ٹیوٹ سے اعلیٰ تعلیم کی منزلیں طے کیں اور پھر سنہ 1978ء میں غزہ کی اسلامی یونیورسٹی کے مقدس ایوانوں میں قدم رکھا جہاں سے انہوں نے عربی زبان و ادب میں بیچلر کی سند حاصل کی۔
اپنی جوانی کے اولین ایام سے ہی ان کی روح اپنے مظلوم عوام اور سلگتے ہوئے کاز کے ساتھ پیوست ہو چکی تھی، چنانچہ انہوں نے جامعی دور میں طلبا یونین اور سیاسی سرگرمیوں میں ایک شعلہ نوا اور سرگرم کارکن کی حیثیت سے نمایاں مقام حاصل کیا۔ یہیں سے ان کے اس طویل، کٹھن اور پُرخار سفر کا آغاز ہوا جو انہیں طلبہ کے پُرجوش میدانوں سے نکال کر تحریکِ آزادی کی اعلیٰ ترین سیاسی و ملی قیادت کے مسندِ اقتدار تک لے گیا۔
قابض دشمن کے عقوبت خانوں سے حریتِ وطن کے مینار تک
اسماعیل ہنیہ کی زندگی کا یہ پُروقار سفر ان کے عوام کی قربانیوں کی داستان سے جدا نہیں تھا؛ انہوں نے ہوش سنبھالتے ہی اپنی ملی اور سیاسی وابستگی کی بھاری ترین قیمت چکانا شروع کر دی تھی۔ چنانچہ قابض صہیونی ریاست کی ظالم فوج نے سنہ 1987ء میں سنگ باری اور پتھروں کی پہلی تاریخی انتفاضہ کے آغاز ہی میں انہیں پہلی بار پابندِ سلاسل کر دیا، جب ان کی غیور اور گرج دار آواز میدانوں میں گونجتی تھی اور وہ خطابت کے ذریعے نوجوانوں کے دلوں میں قابضین کے خلاف حریت کی آگ بھڑکایا کرتے تھے۔
قابض حکام نے ان کے پائے استقلال کو متزلزل کرنے کے لیے سنہ 1988ء میں دوبارہ انہیں حراست میں لیا جہاں انہوں نے اسیری کے کٹھن مہینوں میں صبر و استقامت کی لازوال مثالیں قائم کیں۔ اس کے بعد سنہ 1989ء میں تحریک حماس سے وابستگی کے مبینہ "جرم” میں انہیں پھر سے گرفتار کر کے تین طویل سال کے لیے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا، جو کہ فلسطینی عوام اور غاصب صیہونیوں کے مابین براہِ راست ٹکراؤ کا انتہائی ہولناک دور تھا۔
سترہ دسمبر سنہ 1992ء کا وہ سیاہ دن تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی جب قابض انتظامیہ نے ہنیہ سمیت تحریک حماس اور اسلامی جہاد کے 415 سرکردہ قومی رہنماؤں کو اجتماعی طور پر جنوبی لبنان کے برف پوش اور بے آب و گیاہ قریہ مرج الزهور کی طرف جلاوطن کر دیا، جس کا مقصد تحریکِ مزاحمت کے دماغ کو تنہا کرنا اور میدانِ جنگ کو قائدین سے خالی کرنا تھا۔ مگر ان جلاوطن مجاہدین کی فولادی صمود اور بے مثال استقامت نے دشمن کے اس گھناؤنے منصوبے کو خاک میں ملا دیا، یہاں تک کہ قابض کو ایک سال کے طویل ذلت آمیز عرصے کے بعد انہیں واپس بلانے پر گھٹنے ٹیکنا پڑے۔
سنہ 1997ء میں جب وہ فتح یاب ہو کر غزہ پٹی واپس لوٹے تو انہیں بانیِ تحریک شیخ الشیخ احمد یاسین کے خاص سیکرٹری اور دفتر کے ڈائریکٹر کے منصبِ جلیلہ پر فائز کیا گیا۔ اس قربت نے انہیں تاریخ ساز اور جہاد سے لبریز تحریک کے بانی کے سب سے نقیب اور بااعتماد ساتھیوں میں لا کھڑا کیا۔
اس کے بعد سے ہنیہ کا نام شیخِ شہید کے مبارک نام کے ساتھ اس طرح پیوند ہو گیا جیسے روح اور بدن کا رشتہ ہوتا ہے، یہاں تک کہ ظالم دشمن نے سنہ 2004ء میں ایک بزدلانہ میزائل حملے میں بانیِ تحریک کو شہید کر ڈالا، جس کے بعد اس مقدس امانت کو آگے بڑھانے اور سنبھالنے کا بوجھ اکیلے اسماعیل ہنیہ کے کاندھوں پر آ پڑا۔
ایک سچے اور بے باک فلسطینی سیاست دان کی حیثیت سے انہیں کئی بار قاتلانہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جن میں چھ ستمبر سنہ 2003ء کا وہ دل دہلا دینے والا واقعہ سرفہرست ہے جب قابض طیاروں نے اس مکان کو عین اس وقت تباہ کر دیا جہاں وہ شیخ احمد یاسین کے ساتھ موجود تھے، مگر مشیتِ ایزدی نے انہیں محفوظ رکھا اور ان کی شہادت کا وقت ابھی معین نہیں ہوا تھا۔
انہوں نے سنہ 2000ء کے الاقصی انتفاضہ کے تمام مراحل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، اور اس سچائی کو بارہا دہرایا کہ سنہ 2005ء میں غزہ کی پٹی سے غاصب اسرائیل کا جو انخلا عمل میں آیا، وہ کسی احسان کا نتیجہ نہیں بلکہ شہداء کے پاک خون اور مزاحمت کاروں کے لازوال صمود کا براہِ راست ثمر تھا۔
حکومت کے ایوانوں سے لے کر عوامی دلوں کی حکمرانی تک
پچیس جنوری سنہ 2006ء کو منعقد ہونے والے فلسطینی پارلیمانی انتخابات نے اسماعیل ہنیہ کی سیاسی اور ملی زندگی میں ایک ایسا درخشاں باب جوڑا جس نے پوری دنیا کو دنگ کر دیا۔ تحریک حماس کی "التغییر والاصلاح” لسٹ نے قانون ساز کونسل کی کل 132 نشستوں میں سے شاندار 76 نشستیں حاصل کر کے تاریخ رقم کی۔
ان پرآشوب انتخابات کے بعد ہنیہ نے فلسطینی حکومت کی سربراہی کا بھاری ترین بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا۔ یہ ایک ایسا سنگین اور بحران زدہ سیاسی مرحلہ تھا جس میں اندرونی سازشیں اور بیرونی سامراجی طاقتوں کا شدید ترین اقتصادی اور سیاسی دباؤ عروج پر تھا، مگر انہوں نے آغاز ہی سے تمام فلسطینی دھڑوں کو ساتھ لے کر چلنے اور ایک متفقہ قومی حکومت کی تشکیل کا پختہ عزم ظاہر کیا۔
جب اندرونی اور بیرونی سازشوں کی وجہ سے سیاسی توافق کی راہ میں کانٹے بچھائے گئے تو حماس نے تنہا اپنے بل بوتے پر ہنیہ کی زیرِ قیادت کابینہ کی تشکیل عمل میں لائی، یوں وہ جدید تاریخ کے پہلے ایسے بلند قامت فلسطینی رہنما بنے جنہوں نے محاصرے اور بمباری کے دائرے میں گھرے ہوئے غزہ کی روزمرہ انتظامی اور سیاسی جنگ کو بخوبی نبھایا۔
بعد ازاں، فلسطینی صفوں میں اتحاد اور یگانگت کی شمع جلائے رکھنے کی خاطر، انہوں نے سنہ 2014ء کے اواخر میں "معاہدہ الشاطئ” کے تاریخی موقع پر ڈاکٹر رامی الحمد الله کی سربراہی میں ایک قومی اتفاقِ رائے کی حکومت کی راہ ہموار کرنے کے لیے اپنی وزیراعظم کی کرسی کو خوشی سے قربان کر دیا، جو کہ ان کے بے لوث حب الوطن اور انا سے پاک کردار کا روشن ترین سورج تھا۔
معرکۂ وفاء الحرار: اسیران کی رہائی کا انمٹ باب
انتخابات میں کامیابی کے محض چھ ماہ بعد، جب غزہ پر یلغار کا آغاز ہوا تو القسام بریگیڈز نے دیگر غیور فلسطینی دھڑوں کے ساتھ مل کر پچیس جون سنہ 2006ء کو "الوہم المتبدد” نامی جرات مندانہ آپریشن کے ذریعے اسرائیلی فوجی گلعاد شالیط کو زندہ اسیر بنا لیا، جو فلسطینی عسکری تاریخ کا ایک ایسا معجزہ تھا جس نے دشمن کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔
پانچ سال سے زائد عرصے تک اس اسرائیلی فوجی کو عقوبت خانوں سے دور محفوظ مقام پر رکھنے کے بعد، اٹھارہ اکتوبر سنہ 2011ء کو وہ تاریخی "وفاء الحرار” ڈیل پایہ تکمیل کو پہنچی جس نے قابض کے زندانوں کے تالے توڑ کر 1047 تپتے ہوئے فلسطینی اسیران کو رہائی دلائی۔
شہید ہنیہ نے اس تاریخی موقع پر فخر کے ساتھ اعلان کیا تھا کہ یہ شاندار اسارت اور کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ تحریک حماس کی قیادت میں غزہ پٹی نے "ایک ہاتھ سے تعمیر اور دوسرے ہاتھ سے مزاحمت” کے اصول کو پتھر پر لکیر بنا کر دکھا دیا ہے۔
جنگوں اور آہنی محاصرے کی بھٹی میں کندن بننے والا قائد
اپنے طویل سیاسی اور ملی سفر میں اسماعیل ہنیہ کو فلسطینی عوام کی تاریخ کے تاریک ترین اور کٹھن ترین امتحانات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک طرف غزہ پر مسلط کردہ غیر انسانی اور ظالمانہ زمینی، فضائی اور بحری محاصرہ تھا تو دوسری طرف قابض صیہونی فوج کی وحشیانہ اور مسلسل جنگیں تھیں، مگر ان تمام تر آزمائشوں کے باوجود انہوں نے نہ صرف تحریک کا پرچم سرنگوں ہونے دیا بلکہ اس کے سیاسی، عرب، اسلامی اور بین الاقوامی تعلقات کو نئی بلندیوں سے روشناس کرایا۔
سنہ 2008ء میں جب غاصب دشمن نے غزہ پر "الفرقان” نامی جارحیت مسلط کی تو ہنیہ نے ثابت قدمی کی چٹان بن کر اعلان کیا کہ یہ خونریز معرکہ بیت المقدس اور فلسطین کی آزادی کی طویل جنگ کا ایک فیصلہ کن سنگِ میل ہے۔
سنہ 2012ء کی "حجارۃ السجيل” جنگ کے دوران ان کا ایمان تھا کہ مزاحمت اب ایک نئی طاقتور اور فیصلہ کن سطح پر داخل ہو چکی ہے، اور انہوں نے پُرجوش الفاظ میں کہا تھا: "یہ نیا باب ہم نے اپنے لہو، اپنی شہادتوں اور اپنے اتحاد کی سیاہی سے تحریر کیا ہے۔”
پھر سنہ 2014ء کے خوفناک "العصف المأكول” معرکے کے دوران انہوں نے ثابت کیا کہ الفرقان جنگ میں بہنے والا شہداء کا خون دراصل آنے والے زمانوں میں قابض کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گا، اور یہی تسلسل سنہ 2021ء کے "سیف القدس” تک آب و تاب کے ساتھ جاری رہا۔
سیف القدس کے اس تپتے ہوئے معرکے میں جو مسجد اقصیٰ اور مقبوضہ بیت المقدس کے دفاع کے لیے لڑی گئی تھی، ہنیہ نے دنیا کو باور کرایا کہ القدس ہی اس پوری کشمکش کا محورِ اول و آخر ہے، اور اس معرکے نے غاصبوں کے تمام ناپاک امن معاہدوں اور شکست خوردہ منصوبوں کو روند کر رکھ دیا ہے، اس عزم کے ساتھ کہ شہداء کا گرم لہو ہی حریت کا واحد راستہ ہے۔
سال ہا سال تک قابض فوج نے غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی ہر شیطانی کوشش کی تاکہ فلسطینی مزاحمت کی جڑیں کاٹ دی جائیں، مگر دشمن کے یہ تمام خواب اس وقت چکنا چور ہو گئے جب وہ غزہ کے بچوں، عورتوں اور جانباز مجاہدین کے آہنی صمود سے ٹکرا کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔
حکومت کے ایوانوں سے تحریک کے عالمی سیاسی بیورو کی صدارت تک
چھ مئی سنہ 2017ء کا دن اسلامی تحریک مزاحمت حماس کی تاریخ میں ایک نئے باب کا امین ثابت ہوا جب تحریک کے عمومی شوریٰ کونسل نے متفقہ طور پر اسماعیل ہنیہ کو سابق سربراہ خالد مشعل کی جگہ تحریک حماس کا نیا سیاسی بیورو منتخب کیا۔ یہ اہم ترین منتقلی اس تاریخی پالیسی دستاویز کے اجرا کے فورا بعد عمل میں آئی جس نے تحریک کے سیاسی وژن کو ایک نئی جھلک عطا کی تھی۔
خالد مشعل نے اس قیادت کی پُرامن اور باوقار تبدیلی کو اسلامی تحریکوں کی تاریخ میں ایک سنہری نمونہ قرار دیا، جبکہ دوسری طرف اسماعیل ہنیہ نے دعوت، جہاد، سیاست اور مزاحمت کے طویل تجربے سے لیس ہو کر عالمی سطح پر تحریک کے اعلیٰ ترین منصب پر قدم رکھا۔
اگست سنہ 2021ء میں تحریک کی شوریٰ نے انہیں مزید چار سال کی مدت کے لیے دوبارہ سیاسی بیورو کا سربراہ منتخب کیا تاکہ وہ علاقائی، بین الاقوامی اور اندرونی میدانوں کے اس انتہائی ہولناک اور بدلتے ہوئے منظر نامے میں فلسطینی کاز کی کشتی کو بھنور سے نکال کر کنارے تک پہنچا سکیں۔
اپنی صدارت کے ان برسوں میں انہوں نے سفارتی میدان میں معجزے دکھائے۔ عرب اور اسلامی دنیا کے کونے کونے میں فلسطینی کاز کی شمع کو روشن رکھا، اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر قابض ریاست کے چہرے سے نقاب نوچ کر اسے دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔
وہ دل گداز اور جاویدانی کلمات جو تاریخ کے سینے پر نقش ہیں
اسماعیل ہنیہ کی شخصیت ان کے پُرجوش، سحر انگیز اور شعلہ نوا خطابات کا دوسرا نام تھی جن کے ہر لفظ سے ثبات، حریت اور فلسطین کی خاک سے والہانہ عشق کی مہک آتی تھی۔ ان کے کہے ہوئے جملے آج بھی ہر فلسطینی کے دل کی دھڑکن اور روح کی آواز ہیں۔
ان کے زبانِ مبارک سے نکلے ہوئے وہ ابدی اقوال جو تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن چکے ہیں، کچھ یوں ہیں:
"فلسطین کی اس مقدس زمین پر قابض صیہونیوں کا ذرہ برابر بھی کوئی مستقبل نہیں ہے!”
"حماس پوری سر زمینِ فلسطین سے کم کسی ادنیٰ سے ادنیٰ سمجھوتہ یا سودے بازی کو کبھی تسلیم نہیں کرے گی!”
"ہم اسرائیل کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے، ہرگز تسلیم نہیں کریں گے، ہرگز تسلیم نہیں کریں گے!”
"ہم مزاحمت کے دامن کو کبھی نہیں چھوڑیں گے، ہم نے مزاحمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا اور اپنی زندگی کا واحد مقصد بنا رکھا ہے!”
