غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے شہید طالب علم یحییٰ ادهم نسمان نے ’میٹرک‘ کے امتحانات میں 96.6 فیصد نمبر حاصل کیے ہیں، وہ نتائج کے اعلان سے چند روز قبل شہر غزہ کے مغرب میں واقع حی النصر میں ان کے خاندانی گھر پر قابض اسرائیل کے ایک فضائی حملے کے نتیجے میں جامِ شہادت نوش کر گئے تھے۔
یحییٰ گذشتہ ہفتے کے روز اپنے خاندان کے چار افراد کے ساتھ شہید ہو گئے تھے، جن میں تین بچے بھی شامل تھے، جب قابض نے حی النصر میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ پر گولہ باری کی، جس کے نتیجے میں ان کے والد ادهم إبراهيم نسمان، والدہ مروہ المشهراوی، بھائی بچہ إبراهيم أدهم نسمان اور ایک پانچویں شہید (جن کی شناخت اس وقت ظاہر نہیں کی گئی تھی) شہید ہو گئے، جبکہ متعدد فلسطینی زخمی بھی ہوئے۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض جنگی طیاروں نے رہائشی اپارٹمنٹ کو براہ راست نشانہ بنایا، جس سے وہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور تمام خاندانی افراد شہید ہو گئے، جبکہ ایمبولینس اور شہری دفاع کا عملہ شہداء اور زخمیوں کو ملبے تلے سے نکالنے کے لیے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچا جہاں بڑے پیمانے پر تباہی مچی ہوئی تھی۔
فلسطینی وزارتِ تعلیم و اعلیٰ تعلیم نے جمعہ کے روز مقبوضہ بیت المقدس اور بیرونِ ملک مقیم فلسطینی طلبہ سمیت مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے طلبہ کے لیے سنہ 2025ء تا سنہ 2026ء کے تعلیمی سال کے میٹرک کے امتحانات کے پہلے دور کے نتائج کا اعلان کر دیا۔
وزیرِ تعلیم و اعلیٰ تعلیم امجد برهم نے رام اللہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ پہلے دور میں مغربی کنارے اور باہر کے علاقوں میں کامیابی کا کُل تناسب 74 فیصد رہا، جو کہ پچھلے برسوں کے تناسب سے زیادہ ہے، جبکہ غزہ کی پٹی کے طلبہ کے لیے کامیابی کے کُل تناسب کا اعلان تکنیکی وجوہات کی بنا پر دوسرے دور کی تکمیل تک مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ میٹرک کے نئے نظام کے نفاذ کو تعلیمی سال 2027ء تا 2028ء تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس سال تین سالوں میں پہلی بار مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں بیک وقت میٹرک کے امتحانات منعقد کیے گئے اور اس بات پر زور دیا کہ وزارت نے پٹی پر جاری نسل کشی کی جنگ کے باوجود غزہ کے طلبہ کے امتحانات میں شرکت کرنے کے حق کو یقینی بنانا جاری رکھا۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ پچھلے تین سالوں کے دوران غزہ کی پٹی میں ایک لاکھ چھ ہزار سے زائد طلبہ و طالبات نے میٹرک کے امتحانات میں حصہ لیا، جن میں اس سال 36 ہزار 900 طلبہ و طالبات شامل ہیں، اور یہ بھی بتایا کہ اس سال امتحانات میں شرکت کرنے سے پہلے ہی ایک ہزار 100 سے زائد طلبہ و طالبات جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سال مغربی کنارے بشمول مقبوضہ بیت المقدس اور غزہ کی پٹی میں تقریباً 89 ہزار طلبہ و طالبات نے امتحانات دیے، اس کے علاوہ دنیا بھر کے 46 ممالک میں دو ہزار سے زائد طلبہ و طالبات بھی شریک ہوئے۔
وزیر موصوف نے انکشاف کیا کہ وزارت نے مغربی کنارے میں پہلی بار دینی تعلیم اور قرآن کریم و علومہ کے امتحانات الیکٹرانک طریقے سے لیے اور انہوں نے اگلے مہینے کے وسط میں مقررہ دوسرے دور کے دوران اس تجربے کو وسعت دے کر کئی دیگر مضامین کو بھی اس میں شامل کرنے کی تصدیق کی۔
انہوں نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ رواں برس مغربی کنارے میں میٹرک کے تین طلبہ شہید ہو گئے، جبکہ 67 طلبہ قابض صہیونی عقوبت خانوں میں قید ہونے کی وجہ سے امتحانات میں شرکت کرنے سے محروم رہے۔
وزارت نے واضح کیا کہ طلبہ اور ان کے والدین رول نمبر یا شناختی کارڈ نمبر کا استعمال کرتے ہوئے منظور شدہ الیکٹرانک انکوائری لنک کے ذریعے نتائج دیکھ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ وزارت نے گذشتہ 20 جون کو میٹرک کے امتحانات کا آغاز کیا تھا، جس میں 91 ہزار 138 طلبہ و طالبات نے حصہ لیا تھا، جن میں مغربی کنارے میں 51 ہزار 499، غزہ کی پٹی میں 37 ہزار 698، اور فلسطین سے باہر 46 ممالک میں پھیلے ہوئے 1941 طلبہ و طالبات شامل تھے۔