• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 9 جولائی 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

غزہ میں 1000 دن سے بجلی بند، زندگی صدیوں پیچھے چلی گئی

غزہ کی پٹی میں بجلی کا تعطل اب صرف ایک بنیادی سہولت کا فقدان نہیں رہا بلکہ یہ روزمرہ کی زندگی کو مزید کربناک بنانے والا ایک مستقل عذاب بن چکا ہے۔

جمعرات 09-07-2026
in خاص خبریں, صیہونیزم, غزہ
0
غزہ میں 1000 دن سے بجلی بند، زندگی صدیوں پیچھے چلی گئی
0
SHARES
2
VIEWS

غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی میں بجلی کا تعطل اب صرف ایک بنیادی سہولت کا فقدان نہیں رہا بلکہ یہ روزمرہ کی زندگی کو مزید کربناک بنانے والا ایک مستقل عذاب بن چکا ہے۔ خاص طور پر موسمِ گرما کی شدت اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت میں یہ بحران جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔

جنگ سے تھکے ہارے خاندان اب دوہری اذیت میں مبتلا ہیں، دن کے وقت خیموں کی تپتی گرمی اور رات کے وقت اندھیرے کا خوف۔ بجلی کے حصول کے متبادل ذرائع اب عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکے ہیں۔

متبادل ذرائع: سب کے لیے نہیں

گذشتہ مہینوں کے دوران شہریوں نے بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے جنریٹروں اور سولر سسٹم کا سہارا لینے کی کوشش کی، لیکن مہنگائی اور وسائل کی قلت نے ان راستوں کو بھی بند کر دیا ہے۔ امِ ابراہیم جو غزہ شہر میں بے گھر ہیں، بتاتی ہیں کہ جنریٹر کے ذریعے ایک کلو واٹ بجلی کی قیمت تقریباً 35 شیکل تک پہنچ چکی ہے، جو ایک عام خاندان کے لیے روزانہ ادا کرنا ناممکن ہے۔ ان کے مطابق، موبائل چارج کرنا یا پنکھا چلانا بھی ایک طویل انتظار اور منصوبہ بندی کا متقاضی بن گیا ہے۔

خیموں میں جلتی ہوئی زندگی

خان یونس کے مغرب میں واقع ‘مواصی’ کے علاقے میں خیموں میں رہنے والے علاء ابو شمالہ کہتے ہیں کہ ان کے خیمے میں ٹھنڈک کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ دوپہر کے وقت خیمہ ایک جلتے ہوئے تندور کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جہاں سانس لینا بھی دوبھر ہو جاتا ہے۔ سولر سسٹم کا آپشن ہر کسی کے پاس نہیں، جس کی وجہ سے لوگ شدید گرمی میں گھٹن زدہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

روزگار پر براہِ راست اثرات

بجلی کا بحران گھروں تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ ان چھوٹے پیشہ ور افراد کی زندگی بھی نگل رہا ہے جو بجلی پر انحصار کرتے ہیں۔ علاء جو پیشے سے حجام ہیں، بتاتے ہیں کہ بیٹری سے چلنے والی مشین اب 100 شیکل کے بجائے 3000 شیکل میں مل رہی ہے۔ مشین کے بغیر کام کا مطلب روزی روٹی کا مکمل خاتمہ ہے۔

رات کا اندھیرا اور بڑھتے ہوئے خطرات

سورج غروب ہوتے ہی خیمہ بستیوں میں اندھیرا چھا جاتا ہے۔ سامر العطار جو ایک کیمپ میں مقیم ہیں، کہتے ہیں کہ رات کے وقت بچوں اور بزرگوں کا باہر نکلنا انتہائی خطرناک ہو چکا ہے۔ روشنی کا کوئی انتظام نہ ہونے کے باعث انہیں سانپوں، بچھوؤں اور آوارہ کتوں کے خوف میں راتیں گزارنی پڑتی ہیں۔

بجلی: ایک دور کا خواب

جنگ کے باعث فیکٹریاں بند ہونے سے ہزاروں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔ ایسے میں سولر پینلز اور بیٹریوں کی آسمان کو چھوتی قیمتیں ان کے لیے کسی خواب سے کم نہیں۔

غزہ کے مکینوں کی زندگی اب صرف بقا کی جنگ بن کر رہ گئی ہے۔ ایک موبائل چارج کرنا یا خیمے میں تھوڑی دیر کے لیے پنکھا چلانا بھی ایک ایسا چیلنج بن چکا ہے، جس نے ان کی زندگی کو جدید دور سے نکال کر قدیم اور انتہائی مشکل دور میں دھکیل دیا ہے۔

Tags: Electricity CrisisEnergy CrisisgazaGaza StripHumanitarian CrisisIsraeli Siegepalestinepower outage
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.