نیو یارک – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے پیر کے روز اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شمالی غزہ کی پٹی میں کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر، فلسطینی ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کو فوری طور پر رہا کرے۔ کونسل نے ان کی آزادی کو سلب کرنے کو ”غیر قانونی اور ظالمانہ“ قرار دیا ہے۔
کونسل نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی اسرائیلی قید ”انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے اور دیگر اہم حقوقی معاہدوں کی متعدد شقوں کی خلاف ورزی ہے۔“ کونسل نے اسرائیل کی جانب سے وسیع پیمانے پر اور منظم طریقے سے غیر قانونی قید کے استعمال کے امکان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
’ڈاکٹرز فار ہیومن رائٹس‘ نامی تنظیم نے ہفتے کے روز ڈاکٹر ابو صفیہ کی صحت میں خطرناک بگاڑ کے بارے میں خبردار کیا تھا، جو انہیں رملہ شہر کی نیتسان جیل کے ’رکیت‘ سیکشن میں منتقل کیے جانے کے بعد سامنے آیا۔ تنظیم نے بتایا کہ ان کے وکیل ناصر عودہ نے دو جولائی کو ڈاکٹر سے ملاقات کے دوران ان کے جسم پر شدید چوٹوں کے نشانات، سانس لینے میں دشواری اور بار بار بیہوش ہونے کی تصدیق کی ہے۔
تنظیم نے وکیل کے حوالے سے مزید کہا کہ ڈاکٹر ابو صفیہ کو ملاقات کے لیے ہاتھ پاؤں بندھی حالت میں لایا گیا تھا، اور ان کے ارد گرد نقاب پوش جیل اہلکاروں کا پہرہ تھا۔ ان کے سر، آنکھوں کے ارد گرد، کانوں اور گردن پر تازہ اور گہری چوٹوں اور زخموں کے نشانات اتنے واضح تھے کہ ان کے وکیل کو انہیں پہچاننے میں مشکل پیش آئی۔
اسی تناظر میں، اسرائیلی سپریم کورٹ نے اتوار کے روز قابض حکومت کو منگل 7 جولائی سنہ 2026ء تک ڈاکٹر ابو صفیہ کی صحت کی صورتحال ظاہر کرنے کی مہلت دی ہے۔ عدالت نے حکومت کو پابند کیا ہے کہ وہ ’ڈاکٹرز فار ہیومن رائٹس‘ کی جانب سے غزہ کے 14 فلسطینی ڈاکٹروں، جنہیں قابض حکام نے بغیر کسی الزام یا مقدمے کے قید کر رکھا ہے، کی رہائی کے لیے دائر کردہ درخواست پر اپنا جواب جمع کرائے۔ عدالت نے مطالبہ کیا کہ جواب میں ڈاکٹر ابو صفیہ کی زندگی سے متعلق ”سنگین الزامات“ پر حکومت کا موقف بھی شامل ہو۔
قابض اسرائیلی فوج نے ڈاکٹر ابو صفیہ کو 27 دسمبر سنہ 2024ء کو کمال عدوان ہسپتال پر دھاوے کے دوران گرفتار کیا تھا، جب یہ طبی ادارہ جنگی حالات کے باوجود اپنی خدمات انجام دے رہا تھا۔
اسیر ڈاکٹر پہلے ہی دل کے امراض اور ہائی بلڈ پریشر جیسی دائمی بیماریوں میں مبتلا ہیں، اور حراست کے دوران ان کی صحت مزید بگڑ گئی ہے۔ عالمی سطح پر اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور طبی برادری کی جانب سے ان کی حفاظت کو یقینی بنانے اور انہیں ضروری طبی امداد فراہم کرنے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔