• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
منگل 7 جولائی 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

آگ کے شعلوں اور شدید گرمی میں غزہ کے تنور روزی کے حصول کی جدوجہد کی علامت بن گئے

جب لوگوں کے لیے گرم روٹی باہر نکلتی ہے، تو یہ کارکن اپنی کمر میں شدید درد، سانس لینے میں دشواری اور جنگ و مشقت سے نڈھال جسموں کے ساتھ اپنے خیموں میں لوٹتے ہیں۔

منگل 07-07-2026
in خاص خبریں, صیہونیزم, غزہ
0
آگ کے شعلوں اور شدید گرمی میں غزہ کے تنور روزی کے حصول کی جدوجہد کی علامت بن گئے
0
SHARES
2
VIEWS

غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ میں آگ اب صرف کھانا تیار کرنے کا ذریعہ نہیں رہی، بلکہ ایک ایسا روزمرہ کا امتحان بن چکی ہے جس سے وہ مرد اور خواتین گزر رہے ہیں جنہیں بھوک اور محرومی نے انتہائی کٹھن حالات میں کام کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہاں تنوروں کی تپش اور گرم ترین موسم کی شدت آپس میں مل جاتی ہے اور روٹی کا ایک ٹکڑا طویل گھنٹوں کی تھکن اور دم گھٹنے والی مشقت کا ثمر بن جاتا ہے۔

فٹ پاتھوں اور بے گھر افراد کے کیمپوں کے درمیان نصب بوسیدہ خیموں میں کارکن صبح سویرے سے لے کر غروب آفتاب تک تنوروں کے سامنے کھڑے رہتے ہیں۔ وہ دھویں، راکھ اور بلند درجہ حرارت کا سامنا صرف اس لیے کرتے ہیں تاکہ اتنی اجرت کما سکیں جو بمشکل ان کے اہل خانہ کے لیے ایک وقت کی روٹی کا انتظام کر سکے۔

جب لوگوں کے لیے گرم روٹی باہر نکلتی ہے، تو یہ کارکن اپنی کمر میں شدید درد، سانس لینے میں دشواری اور جنگ و مشقت سے نڈھال جسموں کے ساتھ اپنے خیموں میں لوٹتے ہیں۔

فلسطینی وزارت محنت کے اندازوں کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے دسیوں ہزار خواتین اپنے خاندانوں کی کفیل بن چکی ہیں۔ اس صورتحال نے بہت سی خواتین کو ایسے مشکل پیشوں میں داخل ہونے پر مجبور کیا ہے جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں کیے تھے، جن میں عوامی تنوروں (تندور) پر کام کرنا شامل ہے۔

گھریلو خاتون سے تندور کی مزدور تک

غزہ شہر کے مغرب میں ایک معمولی سے تندور کے اندر 52 سالہ ام احمد ابو مغصیب کا دن طلوعِ آفتاب سے کچھ دیر پہلے شروع ہوتا ہے۔ وہ دھویں سے سیاہ پڑے کپڑے پہنتی ہے اور کئی گھنٹے تندور کے دروازے کے سامنے بیٹھ کر روٹیاں پلٹتی ہے، جبکہ پسینے کے قطرے اس کے چہرے سے ٹپک رہے ہوتے ہیں۔

وہ مرکز اطلاعات فلسطین کو بتاتی ہیں کہ جنگ نے ان سے ان کا گھر اور سب کچھ چھین لیا ہے. اب بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے اس کے پاس اس کام کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ”میں دن کے آخر میں اپنے جھلسے ہوئے ہاتھوں اور راکھ سے بھرے چہرے کے ساتھ واپس لوٹتی ہوں، لیکن جب میں اپنے بچوں کے لیے روٹی یا کچھ کھانا خریدتی ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میری تھکن رائیگاں نہیں گئی۔“

وہ وضاحت کرتی ہیں کہ ان کی معمولی اجرت مشقت کے حجم کے لحاظ سے بہت کم ہے، لیکن کام کے مواقع نہ ہونے اور اشیائے خوردونوش کی بلند قیمتوں کے پیشِ نظر ان کے پاس کوئی اور انتخاب نہیں ہے۔

دھواں صحت کو نگل رہا ہے

ام احمد کی مشکلات صرف جسمانی تھکن تک محدود نہیں رہیں، بلکہ مہینوں کے گذرنے کے ساتھ ساتھ ان کی صحت بھی گرتی جا رہی ہے۔ وہ مسلسل اٹھنے والے دھوئیں کی وجہ سے دمہ اور سانس کے دوروں کا شکار ہیں، اس کے علاوہ طویل گھنٹوں تک کھڑے رہنے سے کمر اور جوڑوں کے دائمی درد میں مبتلا ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ”بعض اوقات میں خیمے میں پہنچ کر پانی کی قلت کے باعث اپنا چہرہ بھی نہیں دھو سکتی، میں اپنے کپڑوں سمیت سو جاتی ہوں اور میرے جسم سے دھوئیں کی بو آتی رہتی ہے۔“

وہ بتاتی ہیں کہ ان کے بچے بھی کبھی کبھار کام میں ان کی مدد کرتے ہیں، لیکن اب وہ خود بھی جلد کی بیماریوں اور مسلسل تھکن کا شکار ہونے لگے ہیں۔

دگنی گرمی اور محدود اجرت

چند میٹر دور 28 سالہ خالد المصری ایک اور تنور کے سامنے کھڑے صبح سے شام تک اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ خیمے کے اندر کام کرنا آگ کے بیچوں بیچ کھڑے ہونے کے مترادف ہے، جہاں تنور کی تپش سورج کی گرمی سے مل کر سانس لینا انتہائی دشوار بنا دیتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ”میں شدید سر درد کے ساتھ خیمے میں واپس لوٹتا ہوں، اکثر دن میں صرف ایک وقت کھانا کھاتا ہوں، لیکن کیا کروں؟ پورا خاندان میرا منتظر ہے کہ میں انہیں کھانا مہیا کروں۔“ وہ اس بات کی تاکید کرتے ہیں کہ انہیں تکلیف تھکن سے نہیں، بلکہ اس احساس سے ہوتی ہے کہ وہ طویل گھنٹوں کی محنت کے باوجود اپنے خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔

خاندان کا بوجھ اٹھاتی خواتین

ان کی اہلیہ ثمر کہتی ہیں کہ وہ بیماری کے باوجود آٹا گوندھنے اور گاہکوں کو سنبھالنے میں اپنے شوہر کا ساتھ دیتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان کا دن پانی حاصل کرنے کی کوشش سے شروع ہوتا ہے، پھر وہ طویل گھنٹے کام میں گزارتی ہیں، جس کے بعد وہ ان بچوں کے پاس واپس لوٹتی ہیں جنہیں مسلسل مصروفیت کے باعث ان کی توجہ نہیں مل پاتی۔

وہ کہتی ہیں کہ ”جنگ نے سب کچھ بدل دیا ہے، اب ہمارے پاس نہ اپنے لیے وقت ہے اور نہ ہی اپنی صحت کا خیال رکھنے کا موقع۔“ وہ بتاتی ہیں کہ گرمی اور دھوئیں کے مسلسل اثر سے ان کے بال اور جلد بری طرح متاثر ہوئے ہیں، جبکہ نہانے کے لیے پانی کا حصول اب ایک ایسی عیاشی بن چکا ہے جو شاذ و نادر ہی میسر ہوتی ہے۔

زندگی کی یادیں جو مکمل بدل گئیں

35 سالہ ریم النجار کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ اپنا دن لکڑیوں سے جلنے والے تندور کے سامنے گزاریں گی۔ وہ بتاتی ہیں کہ جنگ سے پہلے وہ اپنے خاندان کی مدد کے لیے ایک چھوٹا سا منصوبہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی تھیں، لیکن گھر کی تباہی نے انہیں زندہ رہنے کے لیے کسی بھی ذرائع کی تلاش پر مجبور کر دیا۔

وہ بتاتی ہیں ”کبھی کبھی میں ایسی روٹیاں پکاتی ہوں جو میں اپنی بیٹیوں کے لیے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی، تو مجھے بہت دکھ ہوتا ہے، لیکن میں خود کو یہ تسلی دیتی ہوں کہ صبر ہی واحد راستہ ہے۔“ وہ اپنی نظر کی کمزوری، سینے کے درد اور جلد پر خارش جیسی بیماریوں کا ذکر کرتی ہیں جن کا علاج ادویات کے باوجود ممکن نہیں ہو پا رہا کیونکہ وہ روزانہ کام پر جانے پر مجبور ہیں۔

لقمہِ حلال، تھکن سے زیادہ طاقتور

صحت کے خطرات اور نفسیاتی دباؤ کے باوجود تندور کے یہ کارکن اپنے اہل خانہ کی بھوک مٹانے کے جذبے سے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ غزہ میں تندور اب صرف روٹی بنانے کی جگہ نہیں رہے، بلکہ یہ ان لوگوں کی کہانیوں کے گواہ بن چکے ہیں جنہیں جنگ نے ہر روز آگ کا سامنا کرنے پر مجبور کیا ہے، تاکہ ان کے خیموں میں زندگی کی شمع نہ بجھے۔

موسم گرما کی تپش اور تنوروں کے شعلوں کے درمیان یہ لوگ لقمہِ حلال کے حصول کا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں، اس یقین کے ساتھ کہ صبر اب کوئی نعرہ نہیں رہا، بلکہ روٹی کا وہ ٹکڑا بن چکا ہے جسے ہر روز آگ کے بیچ سے چھینا جاتا ہے۔

Tags: BakeriesBread CrisisDaily StruggleFood ShortagegazaGaza StripHumanitarian CrisisLivelihoodpalestinePalestinian people
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.