غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی کے شمال میں واقع جبالیہ النزلہ میونسپلٹی نے بین الاقوامی اداروں، امدادی تنظیموں اور مقامی و بین الاقوامی شراکت داروں سے ہنگامی اپیل کی ہے کہ وہ میونسپلٹی کی حدود میں پانی کے نظام کو بچانے کے لیے فوری مداخلت کریں۔ اس وقت پانی کے بحران کے سبب ہزاروں باشندوں کو پانی سے محروم ہونے کا شدید خطرہ لاحق ہے۔
میونسپلٹی نے ایک پریس بیان میں خبردار کیا ہے کہ بجلی کی مسلسل بندش اور آپریٹنگ اینرجی کے ذرائع ختم ہونے سے ایک سنگین صحت اور ماحولیاتی تباہی جنم لے سکتی ہے۔ مرکزی اور ثانوی کنویں بند ہونے سے جبالیا کے تمام علاقوں میں پانی کی فراہمی منقطع ہونے کا خدشہ ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ پانی کی فراہمی اور بنیادی خدمات جاری رکھنے کے لیے فوری طور پر موبائل جنریٹرز کی فراہمی ضروری ہے۔ میونسپلٹی کو 7 KVA کے دو، 15 KVA کے تین، ایک 50 KVA اور ایک 110 KVA کی صلاحیت کے جنریٹرز کرائے پر لینے کی ضرورت ہے۔
میونسپلٹی نے کہا کہ موجودہ حالات میں کنوؤں کو دوبارہ فعال کرنے اور شہریوں تک پانی پہنچانے کا یہی واحد دستیاب حل ہے۔ میونسپلٹی نے تمام متعلقہ تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس انسانی بحران کو مزید گہرا ہونے سے روکنے کے لیے جنریٹرز کے کرائے کے لیے فوری فنڈز فراہم کریں۔
اس تناظر میں بین الاقوامی انسانی تنظیم ’مرسی کور‘ (Mercy Corps) نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں پانی کا بحران باشندوں کی زندگی کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ گرمیوں کے موسم میں درجہ حرارت میں اضافے اور ڈھائی سال سے زائد عرصے سے جاری اسرائیلی جنگ کے دوران غزہ کے 75 فیصد سے زائد باشندے پانی کی شدید قلت کا شکار ہیں۔
تنظیم نے مزید کہا کہ زیادہ تر خاندان فی کس یومیہ چھ لیٹر سے بھی کم پانی پر گزارا کر رہے ہیں، جو ہنگامی حالات میں بقا کے لیے درکار کم از کم 15 لیٹر پانی سے بھی نصف سے کم ہے۔ یہ مقدار جنگ سے پہلے کی فی کس اوسط کھپت 85 لیٹر کا ایک معمولی حصہ ہے۔
غزہ کی پٹی میں انسانی صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو جاتی ہے جب قابض اسرائیل کی جانب سے ایندھن، اسپیئر پارٹس اور گاڑیوں کے تیل کی ترسیل پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ اس کا براہِ راست اثر پانی کی تنصیبات اور بنیادی خدمات کی فراہمی پر پڑتا ہے، جس سے باشندوں کو درپیش بحران دن بدن مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔