دوحہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ترجمان حازم قاسم نے کہا ہے کہ نام نہاد ” امن کونسل” میں اعلیٰ نمائندے نکولے ملادی نوف کا سلامتی کونسل سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ حماس پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے ہر ممکن طریقے سے دباؤ ڈالے، دراصل قابض اسرائیل کے نقطہ نظر کو اپنانے کا تسلسل ہے اور یہ غزہ کی پٹی کے عوام کے خلاف قابض دشمن کی جارحیت میں اضافے اور ان پر محاصرہ مزید سخت کرنے کے لیے جواز تلاش کرنے کی ایک ناپاک کوشش ہے۔
حازم قاسم نے ایک پریس ریلیز میں مزید کہا کہ نکولے ملادی نوف کی جانب سے امداد میں اضافے کے بارے میں مسلسل بات کرنا اس زمینی حقیقت کے بالکل برعکس ہے جو یہ تصدیق کرتی ہے کہ قابض اسرائیل نے امداد کے داخلے پر پابندیاں جاری رکھی ہوئی ہیں اور وہ بھوکا مارنے کی سفاکانہ پالیسی کو نئے سرے سے نافذ کر رہا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قابض اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باوجود حماس سیز فائر (یا جنگ بندی) کے معاہدے کی پابند ہے اور وہ غزہ کی پٹی کے امور چلانے کے لیے قائم قومی کمیٹی کو حکومتی انتظامات فوری اور مکمل طور پر سونپنے کے لیے تیار ہے۔