غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینیوں کے برحق نصب العین کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے اور غاصب صیہونی دشمن ریاست کی طرف سے مسلط کردہ جنگ و نسل کشی کے ستائے معصوموں کی آواز بلند کرنے کے لیے فلسطینی نژاد اردنی کوہ پیما مصطفیٰ سلامہ ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی کی جانب اپنے سفر کا آغاز کر چکے ہیں۔ وہ اپنے ساتھ ایک ایسی پتنگ لے کر جا رہے ہیں جس پر غزہ کی پٹی کے بچوں کے خواب اور امنگیں لکھی ہیں، تاکہ دنیا کے سامنے ان معصوموں کے مصائب کو پیش کیا جا سکے اور ان کے پیغامات کو عالمی سطح پر پہنچایا جا سکے۔
مصطفیٰ سلامہ کے اس سفر میں ان کے ہمراہ فلسطینی پرچم کے سرخ، سیاہ، سفید اور سبز رنگوں سے سجی ایک پتنگ ہے، جس پر غزہ کی پٹی کے بچوں نے اپنے ہاتھوں سے پیغامات تحریر کیے ہیں۔ یہ پیغامات ان کے ان معصوم اور سادہ خوابوں کی عکاسی کرتے ہیں جو مسلسل وحشیانہ بمباری، جبری ہجرت اور پیاروں کو کھو دینے کے غم سے تراشے گئے ہیں، اور جن میں صیہونی تباہ کاریوں و سفاکیت سے بالاتر ہو کر ایک روشن مستقبل کی امید چھپی ہے۔
چھپن سالہ کوہ پیما مصطفیٰ سلامہ نے فرانس پریس ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے جذباتی انداز میں کہا کہ غزہ کے بچوں کے یہ خواب دنیا کی سب سے اونچی چوٹی تک ضرور پہنچیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مصر منتقل ہونے کے بعد رفح کراسنگ کے قریب جن بچوں سے انہوں نے ملاقات کی وہ ہولناک اور انتہائی مخدوش حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، کیونکہ غاصب صیہونی دشمن نے ان سے ان کے گھر، تعلیم، پینے کا صاف پانی، خوراک اور ادویات سب کچھ چھین لیا ہے۔
مصطفیٰ سلامہ اس کٹھن مہم کے ذریعے برطانوی فلاحی ادارے ‘مؤسسۃ الخیر’ کے لیے ایک کروڑ ڈالر کے عطیات جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو غزہ کی پٹی کے مظلوم محصورین کو خوراک، طبی امداد، عارضی پناہ گاہیں اور نفسیاتی مدد فراہم کر رہا ہے۔
قابض اسرائیل کی مسلط کردہ اس ہولناک جنگ نے غزہ کے اکثر باشندوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا، اور سنہ 2025ء کے گذشتہ اکتوبر کے مہینے میں سیز فائر نافذ ہونے کے باوجود اب بھی لاکھوں فلسطینی انتہائی کسمپرسی کی حالت میں خیموں کے اندر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
مصطفیٰ سلامہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا مقصد محض دنیا کی بلند ترین چوٹی سر کرنا نہیں بلکہ ان ستم رسیدہ بچوں کی سسکیاں دنیا تک پہنچانا ہے، کیونکہ ان کے بقول عالمی برادری فلسطین میں ہونے والی درندگی سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہے اور اس سفر کا مقصد دنیا کو بیدار کرنا اور امداد جمع کرنا ہے۔
پتنگ پر لکھے گئے پیغامات غم اور حوصلے کا ایک ملا جلا سنگم ہیں؛ جہاں کچھ بچوں نے صیہونی سفاکیت سے تباہ ہونے والے اپنے گھروں کو دوبارہ بنانے کے لیے بڑے ہو کر ڈاکٹر اور انجینئر بننے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، وہیں دوسروں نے جنگ کی المناک یادیں درج کی ہیں۔
مصطفیٰ سلامہ نے روتے ہوئے بتایا کہ منیرہ نامی ایک معصوم بچی نے ان سے التجا کی کہ وہ اس پتنگ پر ’47’ کا ہندسہ لازمی لکھیں، اور جب اس کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے بتایا کہ یہ اس کے خاندان کے ان افراد کی تعداد ہے جنہیں صیہونی جارحیت کے دوران بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔
معمولی تبدیلی کی ایک امید
مصطفیٰ سلامہ کویت میں ایک پناہ گزین فلسطینی خاندان میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنی زندگی کا ابتدائی حصہ پناہ گزین کیمپ میں گزارا۔ کوہ پیمائی کی دنیا میں ان کا سفر سنہ 2004ء میں دیکھے گئے ایک خواب کے بعد شروع ہوا، جس میں انہوں نے خود کو ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی پر کھڑے ہو کر اذان دیتے ہوئے دیکھا تھا۔
کئی ناکام کوششوں کے بعد، وہ سنہ 2008ء میں دنیا کی اس بلند ترین چوٹی پر فلسطینی عزم کا پرچم لہرانے میں کامیاب ہوئے، اور بعد ازاں انہوں نے دنیا کے تمام براعظموں کی بلند ترین چوٹیاں سر کرنے سمیت قطب شمالی اور قطب جنوبی تک پہنچنے کا چیلنج بھی مکمل کیا۔
ان کے گذشتہ تمام سفر بھی ہمیشہ انسانی ہمدردی کے مقاصد کے لیے وقف رہے، جن میں نابینا بچوں، کینسر کے مریضوں اور جنگ زدہ علاقوں کے متاثرین کے لیے فنڈز جمع کرنا شامل تھا، اور اب غزہ پر ہونے والے صیہونی مظالم نے انہیں دوبارہ ایورسٹ کی طرف لوٹنے پر مجبور کیا حالانکہ وہ پہلے عزم کر چکے تھے کہ وہ اب یہاں دوبارہ کبھی نہیں آئیں گے۔
مصطفیٰ سلامہ کہتے ہیں کہ ان کا سب سے بڑا خواب صرف پہاڑی چوٹیاں سر کرنا نہیں، بلکہ اپنی دھرتی ماں فلسطین کو غاصب صیہونی چنگل سے آزاد دیکھنا اور اس کی آزاد فضاؤں میں سانس لینا ہے۔