مقبوضہ مغربی کنارہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی ریاست کی تاریخ مظالم اور انسانیت سوز جرائم سے بھری پڑی ہے، مگر اب صہیونی دشمن نے ظلم و ستم کی تمام حدیں عبور کرتے ہوئے قانون سازی کے نام پر فلسطینیوں کی باقاعدہ نسل کشی کا ایک نیا اور خوفناک راستہ اختیار کر لیا ہے۔ اسرائیلی کنیسٹ نے دوسری اور تیسری خواندگی کے بعد ایک ایسے مجرمانہ مسودہ قانون کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد سات اکتوبر سنہ 2023ء کے معرکہ طوفان الاقصیٰ میں شریک سینکڑوں غیور فلسطینی فرزندوں کو ایک نام نہاد عدالتی کارروائی کے ذریعے تختہ دار پر لٹکانا ہے۔ یہ قانون اس غاصب ریاست کے اس انتقامی جنون کا منہ بولتا ثبوت ہے جو اسے اپنی ذلت آمیز عسکری شکست کے بعد لاحق ہو چکا ہے۔
یہ قانون خاص طور پر القسام بریگیڈز (حماس کا عسکری ونگ) کے ان ایلیٹ دستوں کے جانبازوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے جنہوں نے غاصب بستیوں کی دیواریں گرا کر حریت کی نئی تاریخ رقم کی تھی۔ قابض صہیونی ریاست، جو اب تک اسیران کو عقوبت خانوں کی تاریک راہداریوں میں سست موت مارنے یا میدانِ کارزار میں ماورائے عدالت قتل کرنے کی عادی تھی، اب اس سفاکیت کو "قانونی تقدس” عطا کر کے فلسطینیوں کے علانیہ قتل عام کی راہ ہموار کر رہی ہے۔
اس قانون کے تحت مقبوضہ بیت المقدس میں ایک خصوصی فوجی عدالت کا قیام عمل میں لایا جائے گا، جہاں انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے صہیونی جج ان مجاہدین کے خلاف فیصلے سنائیں گے۔ اس پوری مشق کا مقصد بین الاقوامی دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اس نسل کشی کو ایک قانونی عمل کے طور پر پیش کرنا ہے۔ یہ تمام تر پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب بنجمن نیتن یاھو کی سرپرستی اور انتہا پسند وزیر ایتمار بن گویر کی اشتعال انگیزی نے قابض ریاست کو ایک ایسی درندگی میں مبتلا کر دیا ہے جہاں انسانی حقوق محض ایک مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔
قانون کا پس منظر اور صہیونی عیاری
یہ خونی قانون کوئی اچانک پیدا ہونے والی سوچ نہیں بلکہ یہ اس نسل پرست ذہنیت کا تسلسل ہے جو برسوں سے فلسطینی کاز کو مٹانے کے درپے ہے۔ سنہ 2022ء میں اس کی بنیاد رکھی گئی، سنہ 2023ء میں اسے پروان چڑھایا گیا اور اب سنہ 2025ء کی منظوریوں کے بعد اسے حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ اس قانون کی زبان اتنی مبہم اور عیارانہ رکھی گئی ہے کہ اس کا رخ صرف فلسطینیوں کی طرف رہے، جبکہ وہی جرائم کرنے والے صہیونی آباد کار اس کی زد سے محفوظ رہیں۔ یہ اس گریٹر اسرائیل کے خواب کی تعبیر کی جانب ایک اور قدم ہے جس کی بنیاد ہی معصوموں کے خون پر رکھی گئی ہے۔
گذشتہ مارچ میں بھی قابض دشمن نے اسیران کو پھانسی دینے کے حوالے سے ایک قانون کی منظوری دی تھی، جو اس بات کا اعلان تھا کہ صہیونی ریاست اب تمام عالمی قوانین اور انسانی اقدار کو جوتے کی نوک پر رکھتی ہے۔ مئی سنہ 2026ء کے آغاز تک قابض صہیونی عقوبت خانوں میں قید فلسطینیوں کی تعداد 9400 سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں سے بڑی تعداد ان جانبازوں کی ہے جنہیں دشمن "غیر قانونی جنگجو” قرار دے کر ان کے بنیادی انسانی حقوق پامال کر رہا ہے۔
عقوبت خانوں میں سست موت کا رقص
اس نام نہاد بل کی منظوری نے فلسطینی خاندانوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پہلے سے ہی جہنم بنے ہوئے قابض صہیونی عقوبت خانے اب باقاعدہ ذبح خانوں میں بدل جائیں گے۔ جہاں پہلے ہی اسیران کو شدید تشدد، طبی غفلت اور بھوک و پیاس کے ذریعے شہید کیا جا رہا ہے، وہاں اب اس قانونی چھتری تلے انہیں سرِ عام تڑپایا جائے گا۔ اس سازش کا ایک بڑا مقصد یہ بھی ہے کہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ تبادلے کی صورت میں ان ہیروز کو رہا ہونے سے روکا جا سکے جو صہیونی غرور کے لیے ایک زندہ عبرت بن چکے ہیں۔
انتقام کی نفسیات اور شکست کا اعتراف
ممتاز سیاسی تجزیہ نگار ہلال نصار کا کہنا ہے کہ یہ قانون اس ذلت آمیز شکست کا اعتراف ہے جو قابض اسرائیل کو سات اکتوبر کے معرکے میں اٹھانی پڑی۔ انہوں نے بڑے پُردرد لہجے میں کہا کہ ایلیٹ اسیران صہیونی دشمن کے اعصاب پر سوار ہو چکے ہیں اور وہ ان سے اتنا خوفزدہ ہے کہ اب انہیں قانونی لبادے میں شہید کرنے کے سوا اسے کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون سازی بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کے چہرے پر لگی نسل پرستی کی کالک کو مزید گہرا کر دے گی۔
آج فلسطین کا ہر اسیر اور ہر مجاہد اس عزم کا استعارہ ہے کہ زنجیریں چاہے کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہوں، آزادی کی تڑپ کو فنا نہیں کیا جا سکتا۔ قابض دشمن چاہے کتنے ہی کالے قوانین بنا لے، وہ فلسطینیوں کے جذبہ حریت اور ان کے مقدس نصب العین کو شکست دینے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکے گا۔