غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے غزہ کی پٹی میں پولیس اہلکاروں اور سکیورٹی حکام کو قابض اسرائیل کی جانب سے مسلسل نشانہ بنائے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ پالیسی سماجی استحکام کو تباہ کرنے اور دانستہ طور پر افراتفری پھیلانے کی منظم سازشوں کا حصہ ہے۔
حماس نے ایک پریس بیان میں خانیونس کے پولیس انویسٹی گیشن ڈائریکٹر کی شہادت کو بزدلانہ اور مجرمانہ فعل قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ قابض اسرائیل دانستہ طور پر پولیس کے نظام کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ مظلوم فلسطینیوں کی زندگیوں میں مزید مشکلات پیدا کی جا سکیں۔
حماس کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا اصل مقصد غزہ میں سکیورٹی کے نظام کو مفلوج کرنا اور ان تمام قومی کوششوں کو ناکام بنانا ہے جو غزہ کی پٹی کے سنگین حالات کے باوجود شہریوں کو خدمات کی فراہمی اور معمولات زندگی کی بحالی کے لیے جاری ہیں۔
اسی تناظر میں حماس نے گذشتہ سیز فائر معاہدے کے نفاذ کے بعد سے اب تک ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے متاثرین کے تازہ اعداد و شمار بھی جاری کیے ہیں جن کے مطابق گذشتہ اکتوبر سے اب تک 850 سے زائد شہری غاصب صہیونی ریاست کی سفاکیت کے نتیجے میں جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔
حماس نے عالمی برادری بالخصوص مذاکرات کاروں اور معاہدے کے ضامن فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قابض اسرائیل کی اس مسلسل جارحیت کو روکنے کے لیے فوری مداخلت کریں اور فلسطینی عوام کو بین الاقوامی تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائیں۔