غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی میں سیز فائر معاہدے اور تزویراتی سکون کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس دوران مختلف علاقوں میں شہریوں کے گھروں اور سول تنصیبات کو توپ خانے سے گولہ باری، فائرنگ اور بارود سے اڑانے کا سلسلہ سفاکیت کے ساتھ جاری ہے۔
غزہ شہر کے محلے الدرج میں جبالیہ سٹینڈ کے قریب قابض اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں ایک شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے، زخمیوں میں غزہ میں حماس کے سربراہ خلیل الحیہ کے صاحبزادے عزام خلیل الحیہ بھی شامل ہیں۔
غزہ کی پٹی کے وسطی حصے میں قابض اسرائیل کے توپ خانے نے المغازی پناہ گزین کیمپ کے مشرقی علاقوں کو نشانہ بنایا، جبکہ اسی دوران قابض اسرائیل کی جنگی کشتیوں نے غزہ شہر کے ساحل پر شدید فائرنگ کی۔
ایک اور ہولناک واقعے میں المعمدانی ہسپتال کے ذرائع نے بتایا ہے کہ غزہ کی پٹی کے جنوب مشرق میں واقع محلے الزیتون پر قابض اسرائیل کے ڈرون حملے میں تین فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ شہداء کی شناخت صخر فہمی کشکو، حمدان صخر کشکو اور محمد بشیر کشکو کے ناموں سے ہوئی ہے۔
اسی طرح جنوبی غزہ میں خانیونس کے مغرب میں واقع علاقے مواصی میں قابض اسرائیل کے ڈرون نے ایک شہری گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی جام شہادت نوش کر گیا جبکہ دیگر زخمی ہوئے۔
خانیونس میں شہری دفاع کے حکام نے بتایا کہ ان کے عملے نے مواصی کے علاقے میں اپلائیڈ کالج کے قریب بمباری کی جگہ سے ایک شہید اور کئی زخمیوں کو نکالا ہے جنہیں طبی امداد کے لیے ناصر میڈیکل کمپلیکس منتقل کر دیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ نوجوان محمد العطار، جو دو دن قبل غزہ شہر میں الجلاء اور العیون سڑکوں کے سنگم پر اسرائیلی بمباری میں زخمی ہوئے تھے، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے۔
انہی ذرائع کے مطابق شمالی غزہ میں سابقہ اسرائیلی بمباری میں زخمی ہونے والے خالد محمد سالم جودہ بھی شہید ہو گئے ہیں۔
علاوہ ازیں پولیس اہلکار محمد الخطیب کی شہادت کا بھی اعلان کیا گیا ہے جو چند روز قبل غزہ شہر کے محلے النصر میں قابض اسرائیل کے ڈرون حملے میں پولیس اہلکاروں کے ایک گروپ پر ہونے والی بمباری میں زخمی ہوئے تھے۔
جنوبی غزہ کی پٹی میں خانیونس کے علاقے مواصی میں ایک اور اسرائیلی حملے میں ایک شہری شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ شہری دفاع کے مطابق اپلائیڈ کالج کے قریب نشانہ بنائے گئے مقام سے ایک شہید اور کئی زخمیوں کو نکالا گیا ہے۔
بدھ کی دوپہر جنوبی غزہ میں خانیونس شہر کے وسط میں قابض اسرائیل کی افواج کی جانب سے کی جانے والی جارحانہ فائرنگ کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی ہوئے۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض اسرائیل کے ایک ڈرون نے مغربی غزہ شہر کے محلے الرمال میں جزوی طور پر تباہ شدہ شوا وحصری ٹاور کی چھت پر بم گرایا۔
دریں اثنا قابض اسرائیل کی فوجی گاڑیوں نے خانیونس شہر کے مشرق میں شدید فائرنگ کی جس کے ساتھ ساتھ اسی علاقے پر توپ خانے سے گولہ باری بھی کی گئی۔
قابض افواج نے بریدج پناہ گزین کیمپ کے شمال مشرقی علاقوں پر گولہ باری کی جبکہ مشرقی غزہ شہر میں رہائشی مکانات کو بارود لگا کر زمین بوس (نسف) کرنے کی کارروائیاں کیں۔
قابض اسرائیل کی افواج غزہ کی پٹی میں بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کے ٹھکانوں پر فضائی اور زمینی حملوں کے ذریعے سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نام نہاد یلو لائن کے اندر تباہی و بربادی کا عمل جاری ہے اور اشیائے ضرورت، امداد کی فراہمی اور سفر پر سخت پابندیاں برقرار ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال 10 اکتوبر سنہ 2025ء سے سیز فائر کے آغاز کے بعد سے اب تک شہداء کی تعداد 837 ہو گئی ہے، جبکہ 2365 افراد زخمی ہوئے اور 768 لاشیں ملبے سے نکالی گئیں۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے اب تک جاری اس وحشیانہ جارحیت کے نتیجے میں شہداء کی مجموعی تعداد 72,618 اور زخمیوں کی تعداد 172,468 تک پہنچ گئی ہے، جو اس جاری جنگ میں فلسطینیوں کی نسل کشی اور بھاری انسانی قیمت کا واضح ثبوت ہے۔