غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے قابض اسرائیل کی بحری فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی کا محاصرہ توڑنے کے لیے روانہ ہونے والے آزادی بیڑے کے جہازوں پر یونان کے ساحل کریٹ کے قریب کیے جانے والے دہشت گردانہ حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
حماس نے جمعرات کے روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا کہ محصور غزہ کی پٹی کے ساحلوں سے طویل فاصلے پر کی جانے والی یہ صہیونی قزاقی ایک سنگین جرم اور بدمعاشی ہے، جسے قابض اسرائیل کی دہشت گرد حکومت دنیا کی آنکھوں کے سامنے کسی خوف اور احتساب کے بغیر انجام دے رہی ہے۔
بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ ان بہادر شہری کارکنوں کے خلاف کیے جانے والے اس جرم کی بھرپور مذمت کی جائے اور حراست میں لیے گئے رضاکاروں کی فوری رہائی کے لیے عالمی سطح پر تحریک چلائی جائے، جبکہ ان کی سلامتی کی تمام تر ذمہ داری قابض اسرائیل پر عائد کی جائے۔
حماس نے محصور غزہ کی پٹی کی جانب بڑھنے والے گلوبل صمود فلوٹیلا 2 کے جہازوں پر سوار دنیا بھر کے حریت پسندوں اور بہادر سماجی کارکنوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ حماس نے ان سے اپیل کی کہ وہ ان دہشت گردانہ حملوں کے سامنے ثابت قدم رہیں اور غزہ کی پٹی کے مظلوموں کی آواز پہنچانے اور قابض دشمن کے جرائم اور فاقہ کشی کی اس پالیسی کو بے نقاب کرنے کا اپنا مقدس انسانی مشن جاری رکھیں جس کا سامنا فلسطینی عوام گذشتہ دو سال سے جاری وحشیانہ صہیونی نسل کشی کے دوران کر رہے ہیں۔
قابض اسرائیلی افواج نے جمعرات کی علی الصبح بین الاقوامی پانیوں کے بیچ گلوبل صمود فلوٹیلا کے جہازوں کے خلاف بحری قزاقی کی کارروائی انجام دی۔
قابض اسرائیلی فوج کے ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ غزہ کی پٹی کی جانب بڑھنے والے اس بیڑے میں شامل 58 جہازوں میں سے 21 کو روک لیا گیا ہے۔ صہیونی ریڈیو کا دعویٰ ہے کہ قبضے یا قزاقی کی یہ کارروائی فجر کے وقت چند گھنٹوں میں مکمل کر لی گئی جس کے دوران کوئی غیر معمولی واقعہ یا چوٹیں پیش نہیں آئیں۔