• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 2 اپریل 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

فلسطینی اسیران کے لیے سزائے موت، قابض ریاست کی سفاکیت کا نیا باب

اسرائیل کی جانب سے فلسطینی اسیران کے لیے سزائے موت کی منظوری کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔

بدھ 01-04-2026
in خاص خبریں, رپورٹس, صیہونیزم
0
فلسطینی اسیران کے لیے سزائے موت، قابض ریاست کی سفاکیت کا نیا باب
0
SHARES
8
VIEWS

مقبوضہ مغربی کنارہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کی جانب سے پیر کی شام فلسطینی اسیران کے خلاف سزائے موت کے ظالمانہ قانون کی دوسری اور تیسری خواندگی میں حتمی منظوری نے فلسطینی عوام اور مزاحمتی دھڑوں میں غیظ و غضب کی ایک شدید لہر پیدا کر دی ہے۔ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے میثاق کو مسلسل پیروں تلے روندنے کے اس سلسلے میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام کے زمینی اور انسانی صورتحال پر انتہائی ہولناک نتائج برآمد ہوں گے۔

قابض اسرائیلی کنیسٹ نے نیشنل سکیورٹی کمیٹی کی منظوری کے بعد اس قانون پر مہر تصدیق ثبت کی ہے جسے قابض صہیونی عقوبت خانوں میں قید مظلوم اسیران کے خلاف ایک منظم سازش اور انتہائی خطرناک خونی موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس قانون کے تحت فلسطینی اسیران کے لیے سزائے موت کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے اور مقررہ طریقہ کار کے تحت 90 دنوں کے اندر اس پر عمل درآمد کیا جائے گا جبکہ اس میں سزا کی تخفیف یا معافی کی سرے سے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی۔

اسیران کی سزائے موت کا قانون بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور جنگی جرم

فلسطینی ایوان صدر نے اس ظالمانہ قانون کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی انسانی قانون بالخصوص چوتھے جنیوا کنونشن اور شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی میثاق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایوان صدر نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ یہ قانون فلسطینی عوام کے خلاف ایک نیا جنگی جرم ہے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری نسل کشی اور منظم کشیدگی کا تسلسل ہے اور انہوں نے خبردار کیا کہ اس کے خطے کے امن و سکیورٹی پر انتہائی سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایسی سفاکانہ پالیسیاں فلسطینی عوام کے جذبہ حریت کو کچلنے یا انہیں آزادی اور خود مختاری کی جائز جدوجہد سے پیچھے ہٹانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔

قانون جیلوں میں جاری قتل و غارت گری کو قانونی تحفظ دینے کی بھونڈی کوشش

تحریک فتح نے اس نام نہاد قانون کو صہیونی عقوبت خانوں کے اندر جاری قتل و غارت گری کی پالیسیوں کو قانونی جواز فراہم کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ تحریک کا کہنا ہے کہ یہ قانون اسیران پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم، تشدد اور دانستہ طبی غفلت کو قانونی لبادہ پہنانے کی ایک مجرمانہ کوشش ہے۔ تحریک نے مزید کہا کہ یہ قانون قابض صہیونی ریاست کے ڈھانچے میں سرایت کر جانے والی بدترین نسل پرستی کی عکاسی کرتا ہے اور اس کے منظم مجرمانہ عزائم کو بے نقاب کرتا ہے جبکہ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان سنگین خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فی الفور سخت ترین موقف اپنائے۔ انہوں نے اسیران کے خلاف ہونے والے ان جرائم اور فلسطینی عوام کی جاری نسل کشی کے ذمہ داروں کے کڑے احتساب کا بھی مطالبہ کیا۔

اسیران کی زندگیاں داؤ پر، قانون قابض دشمن کی دہشت گرد فطرت کا بین ثبوت

اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ اس قانون کی منظوری قابض دشمن کی اس اصل فطرت کو بے نقاب کرتی ہے جو محض قتل و غارت اور دہشت گردی پر استوار ہے۔ حماس نے اسے ایک ایسی خطرناک اور سیاہ مثال قرار دیا جو قابض صہیونی عقوبت خانوں میں قید ہزاروں اسیران کی زندگیوں کے لیے ایک براہ راست اور بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ تحریک نے کہا کہ یہ قانون انسانی اقدار کے حوالے سے قابض اسرائیل کے تمام جھوٹے دعوؤں کا پول کھول رہا ہے اور انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں بالخصوص اقوام متحدہ اور ریڈ کراس سے اس ظلم کو روکنے کے لیے ہنگامی مداخلت کی اپیل کی ہے۔ حماس نے فلسطینی عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے اسیر بھائیوں کی حمایت میں ہر محاذ پر اپنی آواز بلند کریں اور جدوجہد کو تیز تر کر دیں۔

قانون قابض دشمن کی نسل کشی کی پالیسیوں کا مجرمانہ تسلسل

پاپولر فرنٹ برائے آزادی فلسطین نے اس قانون کو قابض اسرائیل کی جاری نسل کشی کی پالیسیوں میں ایک اور مجرمانہ اضافے سے تعبیر کیا ہے۔ فرنٹ نے کہا کہ ایسی سفاکیت کے باوجود فلسطینی اسیران اپنے آہنی عزم اور استقامت کے ذریعے مزاحمت کی علامت بنے رہیں گے۔ انہوں نے عالمی برادری کو ان جرائم پر خاموشی اور مجرموں کو سزا نہ ملنے کی پالیسی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

اسیران کے خلاف سفاکیت کی انتہا، قابض کنیسٹ کا عالمی بائیکاٹ کیا جائے

اسیران میڈیا آفس نے اس قانون کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے فلسطینی اسیران کے خلاف قابض دشمن کی سفاکیت کی انتہا قرار دیا ہے اور اس کے تمام تر بھیانک نتائج کی ذمہ داری قابض اسرائیل پر عائد کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی سطح پر قابض اسرائیل کی پارلیمنٹ کنیسٹ کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے اور اسے عالمی پارلیمانی فورمز سے نکال باہر کیا جائے کیونکہ یہ ادارہ انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کو قانونی تحفظ فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ عالمی ضمیر کی خاموشی قابض دشمن کو مزید خونریزی کی شہ دے رہی ہے جو عالمی انسانی اقدار کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔

قانون سرد مہری سے قتل کرنے کا لائسنس اور بدترین نسل پرستی

عدالہ قانونی مرکز کی ڈائریکٹر سہاد بشارہ نے کہا کہ فلسطینی اسیران کے لیے سزائے موت کے قانون کی منظوری دراصل نہتے قیدیوں کو سرد مہری کے ساتھ جان بوجھ کر قتل کرنے کا لائسنس فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے پیر کی شام اس قانون کی منظوری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون نسل پرستانہ بنیادوں پر کھڑا ہے جو انسانی مساوات کے تمام اصولوں کو پامال کرتا ہے اور نسل پرستی کی ایسی شکل ہے جس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ مغربی کنارہ کے رہائشیوں پر قابض اسرائیل کے اندرونی قوانین کا نفاذ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے کیونکہ ہاگ کنونشن کے تحت قابض اسرائیل کو مقبوضہ علاقے کی آبادی کے لیے ایسی قانون سازی کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ اس حوالے سے عدالہ سینٹر نے اعلان کیا کہ وہ اس خونی قانون کے خلاف قابض اسرائیل کی سپریم کورٹ میں فوری طور پر چیلنج دائر کرے گا۔

اسیران کی سزائے موت کا قانون بین الاقوامی قوانین کی سنگین پامالی

اردن نے 30 مارچ سنہ 2026ء بروز پیر قابض اسرائیل کی کنیسٹ سے فلسطینی اسیران کے خلاف سزائے موت کے قانون کی منظوری کی شدید مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اردن کی وزارت خارجہ نے اس غیر قانونی اور نسل پرستانہ قانون کو قطعی طور پر مسترد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام فلسطینی عوام کے حقوق اور ان کے حق خودارادیت کے خلاف قابض اسرائیل کی ایک منظم اور گہری سازش کا حصہ ہے۔ اردن نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے قابض اسرائیل کو اس قانون کے نفاذ سے روکے اور اسے اپنے باطل فیصلے واپس لینے پر مجبور کرے۔

قانون کھلم کھلا جنگی جرم ہے، قابض اسرائیل کی کنیسٹ کی رکنیت معطل کی جائے

عرب پارلیمنٹ کے صدر محمد بن احمد الیماحی نے اس قانون کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایک سنگین جرم قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون جنیوا کنونشنز سمیت تمام عالمی میثاق کی نفی ہے جو اسیران کی زندگیوں کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔ الیماحی نے اسے منظم قتل عام کی پالیسی کا حصہ اور ایک مکمل جنگی جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون قابض دشمن کی انتقامی اور سفاکانہ سوچ کا عکاس ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ظلم کے خلاف عملی اقدامات کریں اور قابض اسرائیل کے حکمرانوں کا احتساب کریں۔ انہوں نے عالمی پارلیمانی یونین سے بھی اپیل کی کہ وہ قابض اسرائیل کی کنیسٹ کی رکنیت فوری طور پر معطل کرے کیونکہ یہ ادارہ انسانیت کے خلاف جرائم کی آبیاری کر رہا ہے۔

Tags: Death PenaltygazaHuman Rights ViolationsInternational LawisraelMiddle East ConflictpalestinePalestinian PrisonersWar CrimesWest Bank
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.