غزہ -(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ شہر کے مشرقی حصے میں ہفتے کی صبح قابض اسرائیل کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں ایک شہری جام شہادت نوش کر گیا جبکہ متعدد زخمی ہوئے، جس سے جنگ بندی کے حوالے سے قابض دشمن کی مسلسل خلاف ورزیاں ایک بار پھر بے نقاب ہو گئی ہیں۔
ایک مقامی ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ غزہ شہر کے مشرق میں قابض اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے شہری فہمی قدوم شہید ہو گئے، جبکہ اس وحشیانہ کارروائی میں دیگر کئی افراد زخمی بھی ہوئے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق قابض اسرائیل کے ہیلی کاپٹروں اور ٹینکوں نے غزہ شہر کے مشرق میں واقع محلہ التفاح کے مشرقی علاقوں پر گولہ باری کے ساتھ ساتھ شدید فائرنگ کی۔
اسی دوران غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع شہر خان یونس کے مشرقی اور جنوبی حصوں میں بھی قابض اسرائیل کی فوجی گاڑیوں نے بڑے پیمانے پر فائرنگ کی۔
گذشتہ 10 اکتوبر سے قابض اسرائیلی افواج پورے غزہ کی پٹی میں فضائی و مدفعی بمباری اور فائرنگ کے ذریعے جنگ بندی (سیز فائر) کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہیں۔
قابض اسرائیل کی خلاف ورزیوں سے متعلق روزانہ کی شماریاتی رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہداء کی کل تعداد 692 تک پہنچ گئی ہے، جن میں 202 بچے، 83 خواتین اور 21 بزرگ شامل ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد 1876 سے تجاوز کر چکی ہے۔
ان تازہ ترین اعداد و شمار کے ساتھ 7 اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری نسل کشی کی اس جنگ میں شہداء کی مجموعی تعداد 72,268 سے زائد اور زخمیوں کی تعداد 171,976 ہو گئی ہے۔