نیویارک – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے جمعہ کے روز مقبوضہ فلسطینی اراضی بشمول مشرقی القدس میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق ایک اہم قرارداد منظور کر لی ہے، جس کا مرکزی محور صیہونی مظالم پر انصاف کی فراہمی اور قابض اسرائیل کا محاسبہ یقینی بنانا ہے۔ یہ قرارداد رکن ممالک کی جانب سے بھاری اکثریت سے ووٹ دینے کے بعد منظور کی گئی۔
قرارداد کے حق میں 24 ممالک نے ووٹ دیا جبکہ 19 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور 4 ممالک نے اس کی مخالفت کی۔
فلسطینی وزارت خارجہ و مہاجرین نے ووٹنگ کے نتائج کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قرارداد فلسطینی عوام کے خلاف سنگین جرائم میں ملوث افراد کے محاسبے کی ضرورت پر زور دیتی ہے اور اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ مجرم سزا سے بچ نہ سکیں۔
وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ بین الاقوامی قانون بشمول بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے قوانین کی مسلسل اور منظم سنگین خلاف ورزیوں کے تناظر میں اس قرارداد کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
وزارت نے ان ممالک کے موقف کی بھی تعریف کی جنہوں نے قرارداد کی حمایت کی اور کہا کہ ان کا یہ اقدام بین الاقوامی انصاف کے اصولوں، انسانی حقوق کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کے ساتھ ان کی وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔
فلسطینی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ یہ قدم جوابدہی کو مضبوط بنانے اور سزا سے بچنے کے رجحان کے خلاف جنگ میں ایک پیش رفت ہے، ساتھ ہی انہوں نے ان ممالک کے کردار کو سراہا جنہوں نے اس قرارداد کی سرپرستی اور منظوری میں اپنا حصہ ڈالا۔
وزارت نے زور دے کر کہا کہ اس قرارداد کی منظوری بین الاقوامی برادری بالخصوص رکن ممالک کی اس ذمہ داری کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں، جس میں جنیوا کنونشنز کا احترام یقینی بنانا اور قابض اسرائیل کے ناجائز قبضے سے پیدا ہونے والی غیر قانونی صورتحال کو تسلیم نہ کرنا شامل ہے۔