غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے اقوام متحدہ کے سابق مندوب نکولے ملادی نوف کے منصوبے کے خلاف فلسطینی عوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید غم و غصہ اور مسترد کرنے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس منصوبے کو جو کہ ’قدم بہ قدم‘ کے اصول پر مبنی کثیر المراحل طریقہ کار پر استوار ہے قابض صہیونی دشمن کے مفادات اور اس کے ناپاک عزائم کی کھلی جانبداری قرار دیا گیا ہے۔
خاص ذرائع نے اس منصوبے کی تفصیلات بے نقاب کی تھیں جس میں عالمی نگرانی میں مزاحمت کا اسلحہ چھیننے کے لیے ایک مخصوص ٹائم فریم مقرر کیا گیا تھا اور اسے ایک ایسے سیاسی و سکیورٹی فریم ورک سے جوڑا گیا تھا جس میں ہر قدم کی پیش رفت دونوں فریقوں کی بیک وقت عمل آوری سے مشروط تھی۔
اس تناظر میں اسلامی جہاد نے اس منصوبے کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ مزاحمت کا اسلحہ فلسطینی عوام کی امانت اور ملکیت ہے۔ تحریک نے واضح کیا کہ یہ اسلحہ قابض اسرائیل کے ناجائز قبضے کے خاتمے اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام جیسے قومی اہداف کے حصول کا بنیادی ذریعہ ہے۔
تحریک کے رہنما اسماعیل السنداوی نے کہا کہ اصل بحران کی جڑ قابض اسرائیل کا وجود ہے اور مزاحمت کا اسلحہ اسی قبضے کا ایک قدرتی ردعمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبضے کا خاتمہ ہی تنازع کے خاتمے کی ضمانت ہے اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ قابض دشمن کو اس کے جرائم روکنے اور فلسطینیوں کے حقوق تسلیم کرنے پر مجبور کرے۔
دوسری جانب پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین نے اس بات پر زور دیا کہ مزاحمت فلسطینی عوام کا وہ جائز حق ہے جو مسلسل اسرائیلی جارحیت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔ فرنٹ کے پولیٹ بیورو ممبر عمر مراد نے کہا کہ قومی حقوق کی بحالی کے بغیر اسلحہ حوالے کرنے کا مطالبہ دراصل قابض اسرائیل کو اس بات کی کھلی چھوٹ دینا ہے کہ وہ بغیر کسی خوف اور رکاوٹ کے فلسطینیوں کی نسل کشی جاری رکھ سکے۔
عمر مراد نے مزید کہا کہ مزاحمت کا اسلحہ کبھی بدامنی کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ یہ فلسطینی عوام کے تحفظ کا ضامن رہا ہے اور اس آپشن کو نشانہ بنانے والے منصوبوں کے خلاف قومی وحدت کو مضبوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اسی طرح ڈیموکریٹک فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین نے ان تمام کوششوں سے خبردار کیا ہے جو تصفیے کے منصوبوں کا رخ موڑ کر انہیں اسرائیلی مطالبات کے سانچے میں ڈھالنا چاہتی ہیں۔ فرنٹ کے رہنما قیس عبدالکریم ابو لیلیٰ نے کہا کہ اسلحہ سے متعلق کوئی بھی انتظام صرف ایک متحدہ فلسطینی موقف کے تحت ہی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قابض اسرائیل میدانِ جنگ میں عسکری ناکامی کے بعد اب سفارتی دباؤ کے ذریعے سیاسی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسی تناظر میں فلسطینی قبائلی و لسانی گروہوں نے بھی اس منصوبے کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ قبائل و عشائر کی قومی کمیٹی کے رکن علاء الدین العکلوک نے کہا کہ مزاحمت کا اسلحہ ایک اجتماعی حق ہے جسے آزادی سے قبل ترک نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پہلی ترجیح نسل کشی کی اس جنگ کا خاتمہ، ظالمانہ محاصرے کا خاتمہ اور فلسطینی عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہونا چاہیے نہ کہ انہیں غیر مسلح کرنا۔
العکلوک نے اشارہ کیا کہ کسی بھی سیاسی حل کی بنیاد بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کی بہتری اور دوبارہ تعمیرِ نو کے حالات پیدا کرنے سے ہونی چاہیے اور مکمل فلسطینی خود مختاری کے بغیر اسلحہ کی حوالگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
بدوی قبائل و عشائر کے سربراہ شیخ سالم الصوفی نے جذباتی انداز میں کہا کہ عالمی تحفظ کی عدم موجودگی اور مسلسل اسرائیلی سفاکیت کے سائے میں مزاحمت کا اسلحہ فلسطینی عوام کے لیے ’روح‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ امن کے قیام اور آزاد ریاست تک اس سے دستبردار ہونے کا کوئی امکان نہیں۔
شیخ الصوفی نے مزید کہا کہ عالمی خاموشی کے سائے میں ہونے والے قتلِ عام اور مظالم کی طویل تاریخ نے اسلحہ رکھنے کو وجودی ضرورت بنا دیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ان عالمی ضمانتوں کا کیا فائدہ جنہوں نے دہائیوں سے فلسطینیوں کو کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا؟
فلسطینی دھڑوں اور قبائلی قوتوں کا یہ اتفاقِ رائے اس حقیقت کا عکاس ہے کہ غزہ کی پٹی میں بڑھتے ہوئے سیاسی اور انسانی چیلنجز کے باوجود فلسطینی قوم کسی بھی ایسے منصوبے کو قبول نہیں کرے گی جو قبضے کے خاتمے اور قومی حقوق کی ضمانت کے بغیر مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کی بات کرے۔