غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی نے بتایا ہے کہ اس نے مصر کے ساتھ واقع رفح سرحدی گزرگاہ کے ذریعے غزہ کی پٹی سے 47 فلسطینیوں کے انخلاء کی سہولت فراہم کی ہے جو اس وقت قابض اسرائیل کی جانب سے عائد کردہ انتہائی سخت اور ظالمانہ پابندیوں کے سائے میں کام کر رہی ہے۔
سوسائٹی نے ایک بیان میں مزید کہا کہ اس کے عملے نے طبی انخلاء کے ایک نئے مرحلے پر عمل درآمد کیا ہے جس میں غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع خان یونس کے علاقے میں سوسائٹی کے میڈیکل ری ہیبلی ٹیشن ہسپتال سے 17 مریضوں اور ان کے 30 تیمارداروں کو رفح بری گزرگاہ پہنچایا گیا تاکہ وہ بیرون ملک اپنا علاج کروانے کے لیے روانہ ہو سکیں۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ انخلاء کا یہ عمل رفح گزرگاہ پر کام کی تھوڑی دیر کے لیے معطلی کے بعد دوبارہ شروع ہونے پر عمل میں آیا ہے۔
سوسائٹی نے مزید بتایا کہ اس کی ٹیموں نے عالمی ادارہ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر مریضوں اور ان کے تیمارداروں کی نقل و حمل کے دوران سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام لازمی اقدامات کی ذمہ داری سنبھالی۔
ہلال احمر نے زور دے کر کہا کہ طبی انخلاء کے یہ آپریشنز مریضوں اور زخمیوں کی مدد کے لیے اس کے مسلسل انسانی کردار کا حصہ ہیں تاکہ غزہ کی پٹی کے اندر ہسپتالوں اور طبی مراکز پر پڑنے والے شدید دباؤ کے پیش نظر ان کے بیرون ملک علاج تک رسائی کو تیز بنایا جا سکے۔
سوسائٹی نے یہ بھی کہا کہ اس کا عملہ طبی انخلاء کے عمل کو محفوظ اور منظم طریقے سے یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور مریضوں کی روانگی تک انہیں ہر قسم کی مدد اور نگہداشت فراہم کی جائے گی۔
عالمی ادارہ صحت کی گاڑیوں نے ان بسوں کی ہمراہی کی جو مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو لے کر رفح گزرگاہ تک پہنچی تھیں۔
امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے آغاز کے بعد تقریباً 20 روز کی بندش کے بعد قابض اسرائیلی حکام نے گذشتہ 19 مارچ سنہ 2026ء کو رفح گزرگاہ کو سخت ترین پابندیوں کے ساتھ دوبارہ کھولا تھا۔
گذشتہ اتوار کے روز قابض اسرائیلی فوج نے ایک فلسطینی کو اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ مصر سے رفح سرحدی گزرگاہ کے ذریعے غزہ واپس آ رہا تھا۔ یہ گرفتاری مئی سنہ 2024ء میں اسرائیل کی جانب سے اس گزرگاہ پر غاصبانہ قبضے کے بعد کام کی دوبارہ بحالی سے اب تک ہونے والی پہلی گرفتاری ہے۔
بدھ کے روز غزہ کی پٹی میں بارڈر اینڈ کراسنگ اتھارٹی نے اعلان کیا تھا کہ یورپی مشن کی جانب سے کام کے بائیکاٹ کے خاتمے کے بعد جمعرات سے رفح گزرگاہ پر کام دوبارہ شروع ہو جائے گا۔ یورپی مشن نے اسرائیل کی جانب سے ایک واپسی مسافر کی گرفتاری کے خلاف احتجاجاً کام معطل کر دیا تھا۔
گزرگاہ دوبارہ کھلنے کے بعد سے غزہ واپس آنے والے فلسطینیوں نے اپنے سفر کی کربناک داستانیں سناتے ہوئے بتایا ہے کہ انہیں قابض اسرائیل کی جانب سے تذلیل کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس میں گھنٹوں طویل سخت تفتیش اور حراست شامل ہوتی ہے جس کے بعد ہی انہیں غزہ میں داخلے کی اجازت دی جاتی ہے۔
غزہ میں فلسطینی ذرائع کے مطابق نسل کشی کے اس ہولناک بحران کے باعث تباہ حال طبی شعبے کی صورتحال کے پیش نظر تقریباً 22 ہزار زخمی اور مریض ایسے ہیں جنہیں فوری طور پر علاج کے لیے بیرون ملک منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔
قابض اسرائیل کی اس نسل کشی کی جنگ سے قبل روزانہ سینکڑوں فلسطینی معمول کے مطابق رفح گزرگاہ کے ذریعے مصر جاتے اور واپس آتے تھے اور اس کا انتظام غزہ میں وزارت داخلہ اور مصری حکام کے پاس تھا جس میں اسرائیل کی کوئی مداخلت نہیں تھی۔
طے شدہ منصوبے کے مطابق اسرائیل کو 10 اکتوبر سنہ 2025ء سے شروع ہونے والی جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے میں یہ گزرگاہ کھول دینی چاہیے تھی مگر وہ اس سے بھی منحرف ہو گیا۔
واضح رہے کہ امریکی سرپرستی میں اسرائیل نے آٹھ اکتوبر سنہ 2023ء کو غزہ پر جس نسل کشی کی جنگ کا آغاز کیا تھا وہ دو سال سے جاری ہے جس میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 72 ہزار کے قریب زخمی ہو چکے ہیں جبکہ 90 فیصد شہری ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔