غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) کریات گات میں قائم امریکی سکیورٹی کوآرڈینیشن سینٹر کے جاری کردہ اعداد و شمار سے یہ ہولناک انکشاف ہوا ہے کہ ایران پر قابض اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ مہم جوئی اور جنگ کے آغاز سے ہی غزہ کی پٹی میں داخل ہونے والے امدادی ٹرکوں کی تعداد میں 80 فیصد تک ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے آغاز سے قبل غزہ میں داخل ہونے والے امدادی ٹرکوں کی ہفتہ وار اوسط تقریباً 4200 تھی جو اس سفاکانہ جنگ کے پہلے ہفتے میں گر کر محض 590 رہ گئی اور دوسرے ہفتے میں یہ تعداد صرف 1137 تک پہنچ سکی، جبکہ رواں ہفتے منگل کی شام تک صرف 400 ٹرکوں کو ہی داخلے کی اجازت مل سکی ہے۔
دوسری جانب امدادی سامان کی آمد میں اس شدید تعطل نے غزہ میں زندگی کے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جہاں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور بازاروں سے بنیادی ضرورت کی اشیاء غائب ہو چکی ہیں۔
غزہ میں قابض دشمن کی دانستہ نسل کشی کی پالیسی کے باعث آٹے کے 25 کلوگرام تھیلے کی قیمت بڑھ کر 100 شیکل تک پہنچ گئی ہے جو کہ اس کی اصل قیمت سے تین گنا زیادہ ہے، جبکہ ٹماٹر کی قیمت 5 شیکل سے بڑھ کر 12 شیکل فی کلو گرام تک جا پہنچی ہے۔ اسی طرح کوکنگ آئل اور ڈبہ بند اشیاء جیسی اہم ضرورتیں بازاروں سے مکمل طور پر نایاب ہو چکی ہیں۔
طبی شعبے کی صورتحال بھی انتہائی دگرگوں ہے جہاں غزہ کے ہسپتالوں نے طبی آلات اور ضروری سامان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قلت کی دہائی دی ہے۔ غزہ میں وزارت صحت نے خبردار کیا ہے کہ ایندھن اور اسپیئر پارٹس کی کمی کے باعث ہسپتالوں میں جنریٹرز پر منحصر بجلی کا نظام کسی بھی وقت مکمل طور پر بیٹھ سکتا ہے جو کہ ایک بڑے انسانی المیے کو جنم دے گا۔ عالمی ادارہ صحت نے بھی ادویات اور طبی اشیاء کی شدید ترین قلت کے حوالے سے ہنگامی انتباہ جاری کیا ہے۔
ادھر مقبوضہ علاقوں میں قابض اسرائیلی حکومت کی سرگرمیوں کے کوآرڈینیشن یونٹ نے گذشتہ منگل کو ’یونیسف‘ کو مطلع کیا ہے کہ ان کے ذریعے امدادی سامان کی ترسیل روک دی گئی ہے۔ قابض دشمن نے مضحکہ خیز دعویٰ کیا ہے کہ مصر سے آنے والی طبی کھیپ میں نکوٹین پر مشتمل مواد چھپایا گیا تھا۔ دشمن نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ نام نہاد مخالف قوتیں امدادی طریقہ کار کو غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں، جس کا مقصد دراصل امداد کی بندش کو طول دے کر فلسطینیوں کی منظم نسل کشی کو تیز کرنا ہے۔