غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ شہر کے مغربی علاقے میں قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں نے ایک رہائشی عمارت پر وحشیانہ بمباری کی جس کے نتیجے میں عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور قریب ہی موجود پناہ گزینوں کے خیموں میں ہولناک آگ بھڑک اٹھی۔
طبی اور مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض اسرائیل کی فضائیہ نے عمارت کو براہِ راست نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں جائے وقوعہ پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلی اور ارد گرد کی عمارتوں و املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
ذرائع نے اشارہ کیا کہ اس بمباری کے باعث عمارت کے قریب نصب پناہ گزینوں کے متعدد خیموں میں آگ لگ گئی جس سے علاقے میں مقیم خاندانوں بالخصوص خواتین اور بچوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
علاقہ مکینوں نے سول ڈیفنس کے عملے کے ساتھ مل کر آگ پر قابو پانے اور اسے پڑوس کے دیگر خیموں تک پھیلنے سے روکنے کی کوشش کی حالانکہ غزہ کی پٹی میں جاری سفاکیت اور محاصرے کی وجہ سے آگ بجھانے والے آلات اور وسائل کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
انہی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اب تک اس بمباری کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے تاہم قابض اسرائیل کے جنگی طیارے مسلسل علاقے کی فضاؤں میں منڈلا رہے ہیں جس سے نئے حملوں کا خطرہ برقرار ہے۔
یہ حملہ قابض اسرائیل کی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر جاری ان مسلسل غارت گریوں کا حصہ ہے جو مکانات اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن رہی ہیں اور مسلسل جنگ و حصار کے سائے میں سسکتے شہریوں کی تکالیف میں مزید اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔