غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے اپنے شہید ترجمان حذیفہ الکحلوت المعروف ابو عبیدہ کا ایک نئی ویڈیو کلپ جاری کیا ہے، جس میں وہ اپنے عسکری اور صحافتی کام کے برسوں کے دوران پہلی بار اس سرخ رومال (نقاب) کے بغیر نظر آ رہے ہیں جو ہمیشہ ان کی پہچان رہا۔
سوشل میڈیا کے صارفین کے درمیان الکحلوت ‘ملثم’ (نقاب پوش) کے طور پر مشہور تھے، کیونکہ وہ ہمیشہ سرخ کوفیہ پہننے کا التزام کرتے تھے جس سے ان کے چہرے کے خدوخال چھپے رہتے تھے، یوں ان کی تصویر مزاحمت، رازداری اور سکیورٹی نظم و ضبط کی علامت بن گئی تھی۔ ان کے چاہنے والے انہیں ان کی آواز، مخصوص لہجے اور ولولہ انگیز خطاب سے پہچانتے تھے لیکن کبھی ان کا اصل چہرہ نہیں دیکھ پائے تھے۔
القسام بریگیڈز کی جانب سے نشر کی گئی یہ ویڈیو حذیفہ الکحلوت کی بغیر نقاب کے پہلی دستاویزی فلم ہے، جس میں وہ ویڈیو کے مناظر کے مطابق غزہ کی پٹی کے وسط میں واقع نصیرات کیمپ میں القسام بریگیڈز کی ‘کتيبة القدس’ کے مجاہدین کے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران اپنی آواز اور چہرے کے ساتھ دکھائی دے رہے ہیں۔
ویڈیو کلپ میں وہ ایک اندرونی تقریب کے ماحول میں مجاہدین سے مخاطب ہوتے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے نظر آتے ہیں۔
اس ویڈیو کی اشاعت القسام بریگیڈز کے ایک وسیع تر میڈیا بیانیے کا حصہ ہے، جس میں وسطی بریگیڈ کے ‘کتيبة القدس-نصیرات’ کے کمانڈر، شہید اسماعیل فائز السراج المعروف ‘ابو معاذ’ کے مناظر بھی شامل ہیں۔ القسام نے اس ویڈیو کو ‘اقمار الطوفان’ (طوفان کے چاند) کا عنوان دیا ہے، جو ‘معرکہ طوفان الاقصیٰ’ میں القسام کے شہداء کی دستاویزی سیریز کا حصہ ہے۔
مبصرین کے مطابق، اس اشاعت کا مقصد غزہ کی پٹی پر جاری نسل کشی کی جنگ کے دوران شہید ہونے والے القسام کے ان رہنماؤں کی زندگیوں پر دوبارہ روشنی ڈالنا ہے جنہوں نے قابض اسرائیل کے خلاف اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے، اور ان کے میدانی سفر کو ‘طوفان الاقصیٰ’ کی داستان اور اس کے مختلف مراحل سے جوڑنا ہے۔
اس ویڈیو کلپ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑے پیمانے پر پزیرائی ملی ہے اور انٹرنیٹ صارفین تیزی سے اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے اس پر اپنے تاثرات کا اظہار کر رہے ہیں۔
زیادہ تر تبصروں میں اس لمحے کے جذباتی پہلو پر توجہ دی گئی ہے جب اس شخص کے چہرے کو ‘دیر سے پہچاننے’ کا موقع ملا جس کا نام اور خطاب برسوں سے عوام کے حافظے کا حصہ تھا۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس لمحے کو بیک وقت ‘حیران کن اور تکلیف دہ’ قرار دیا، کیونکہ ان کے چہرے کے خدوخال ان کی شہادت کے بعد دنیا کے سامنے آئے۔
واضح رہے کہ اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے 29 دسمبر سنہ 2025ء کو اعلان کیا تھا کہ ابو عبیدہ طوفان الاقصیٰ کے بعد غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ نسل کشی کی جنگ کے دوران شہید ہو چکے ہیں۔